بنجمن نیتن یاھو کا ایران پر بھرپور حملے جاری رکھنے کا اعلان،حزب اللہ کو سخت جواب کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

تہران پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایران پر بھرپور قوت کے ساتھ ضرب لگانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جبکہ حزب اللہ کو مزید سخت جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔

وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز اور چیف آف آرمی اسٹاف ایال زامیر کے ہمراہ ایک ویڈیو پیغام میں بنجمن نیتن یاھو نے کہا کہ ہم ایران پر پوری قوت سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، ہمارے پائلٹ ایران اور تہران کی فضائی حدود کے ساتھ ساتھ لبنان کے آسمان پر بھی پرواز کر رہے ہیں۔

لبنانی حکومت کو انتباہ

بنجمن نیتن یاھو نے مزید کہا کہ حزب اللہ نے ہم پر حملہ کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے، ہم نے پہلے ہی بھرپور جواب دیا ہے اور اب اس سے بھی زیادہ سخت اور شدید جوابی کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی حکومت اور وہاں کے عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ حزب اللہ انہیں ایک ایسی جنگ میں دھکیل رہی ہے جو ان کی جنگ نہیں ہے۔

ایران میں اسرائیلی آپریشن کی توسیع

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی فوج نے تہران کے اندر اپنے آپریشنز کو وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق تہران میں ان فوجی ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر حملوں کی لہر شروع کر دی گئی ہے جنہیں وہ عسکری تنصیبات قرار دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تہران کے رہائشیوں کو دارالحکومت کے مخصوص علاقے فوری طور پر خالی کرنے کی وارننگ بھی جاری کی گئی ہے۔

لبنان میں مزید پیش قدمی کی منظوری

دوسری جانب لبنان کے محاذ پر اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے ان کے ساتھ مل کر لبنانی سرزمین کے اندر مزید بلند مقامات کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فوج کی پیش قدمی کی منظوری دے دی ہے۔ یسرائیل کاٹز کے مطابق اس اقدام کا مقصد فائرنگ کو روکنا اور سرحدی اسرائیلی بستیوں کا تحفظ کرنا ہے، اس کے علاوہ ان پانچ پوائنٹس کا دفاع بھی شامل ہے جو اس وقت لبنان کے اندر اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں۔

واضح رہے کہ حزب اللہ نے دو روز قبل شمالی اسرائیل کی جانب راکٹ داغنے شروع کیے تھے، جس کے بارے میں تنظیم کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں چھڑنے والی یہ جنگ گذشتہ ہفتے کے آخر سے بدستور شدت اختیار کر رہی ہے۔ اسرائیل نے 28 فروری کے روز اچانک امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے اندر متعدد مقامات پر حملوں کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا مقصد ایرانی نظام کا خاتمہ ہے۔ جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور کئی خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی جانب میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں