ایرانی مذہبی رہنماکاعلی خامنہ ای کی ہلاکت کےبعد فوری طورپرنئے سپریم لیڈرکےانتخاب کامطالبہ

ملکی امور کے بہتر انتظام کے لیے نئے سپریم لیڈر کی تقرری ناگزیر ہے: مکارم شیرازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ دی ہے کہ ایرانی مذہبی رہنما مکارم شیرازی نے ملکی امور کی مینجمنٹ کو بہتر بنانے میں مدد کے لیے فوری طور پر نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق سابق ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای گذشتہ ہفتے شروع ہونے والی جنگ کے پہلے ہی دن اپنے گھر پر امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔

جمعہ کے روز ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ ملک کی قیادت کی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں ماہرین کی کونسل (مجلس خبرگان) کا اجلاس بلانے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا، جو قوم کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ دار ہے۔ اس قیادت کونسل میں صدر مسعود بزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی اور مذہبی رہنما آیت اللہ علی رضا اعرافی شامل ہیں۔

سرکاری بیان میں سپریم لیڈر کے انتخاب کے حوالے سے کسی حتمی وقت کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ آیا ماہرین کی کونسل ووٹنگ کے لیے بالمشافہ ملاقات کرے گی یا یہ عمل آن لائن مکمل کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ماہرین کی کونسل کے دفاتر اور متعلقہ عمارتیں، جو 88 ارکان پر مشتمل مذہبی ادارہ ہے، گذشتہ سنہ 2026 فروری کو ملک پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران نشانہ بن چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں