اسرائیل جس کے تمام اقسام کے جدید ترین دفاعی نظام کے باوجود ایرانی میزائل طول و عرض میں پہنچنے میں کامیاب ہیں۔ گذشتہ روز بھی ان میزائلوں کے حملے جاری رہے۔ اس کے بعد تل ابیب میں کم از کم دو مقامات پر میزائلوں کے ہٹ کرنے سے دھماکے ہوئے اور شہر کی فضاؤں میں دھواں پھیل گیا۔
تل ابیب اسرائیل کا ساحلی شہر ہے اور صنعتی و تجارتی اعتبار سے بھی ایک اہم ترین مرکز خیال کیا جاتا ہے۔ ایران نے اپنے میزائل حملوں کے لیے اسے بھی بطور خاص نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ وقفے وقفے سے ہونے والے ایرانی میزائل حملوں سے تل ابیب میں خطرے کے سائرن بجنے لگتے ہیں اور پھر شہر بھر کے لوگوں کی تہہ خانوں اور بنکروں میں چھپنے کے لیے دوڑہیں لگ جاتی ہیں۔ اس ناطے یہ شہر آج کل ایرانی میزائل حملوں کے خوف سے عملاً میرتھن ریس کا شہر بنا ہوا ہے جہاں پورے شہرے کے لوگ اندھا دھند بھاگتے نظر آتے ہیں۔ جمعہ کے روز بھی مغربی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے نمائندے نے یہی مناظر دیکھے۔
ان واقعات کی کوریج انتہائی سخت قسم کی سنسرشپ کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر ہے۔ البتہ ریسکیو اور ابتدائی امداد کے ادارے میگن ڈیوڈ ایڈوم کی تقریباً ہمہ وقت سڑکوں اور گلیوں میں بھاگتی ایمبولینسز کی وجہ سے تل ابیب کے شہریوں کی حالت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے ہے کہ اس بار ایران کے ساتھ جارری جنگ نے اسرائیل کو دنیا کی خطرناک ترین جگہوں میں شامل کر دیا۔ جہاں کے مکین ہمہ وقت خطرے کی زد میں رہتے ہیں اور جان بچانے کے لیے انہیں صبح شام دوڑیں لگانا پڑتی ہیں تاکہ بنکروں میں چھپ سکیں۔
اس ریسکیو کے ادارے کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہ ہر اس جگہ پہنچتے ہیں جہاں دھماکوں کی اواز آتی ہے یا دھواں اٹھتا نظر آتا ہے یا مقامی لوگ فون کر کے ایمرجنسی سے آگاہ کرتے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف اپی' کے نمائندے کے مطابق اسے دھماکوں کے نزدیکی جگہوں سے گہرا سیاہ دھواں اٹھتا نظر آیا۔ کیونکہ ایک ویئر ہاؤس جل رہا تھا۔ جسے آگ نے پوری طرح لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اس نمائندے کے مطابق ایرانی میزائل نے موٹر وے نے نزدیک ویئر ہاؤس کو نشانہ بنایا تھا۔ موقع پر ریسکیو کی ٹیمیں بھی پہنچ چکی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق پہلے سائرن بجے اور اس کے بعد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
فوج کی طرف سے اس میزائل حملے کی اطلاع ملتے ہی اس نے میزائلوں کو فضا میں روکنے کی کوشش کی۔ فوج کے حکام کے مطابق میزائل ایران سے اسرائیل پر داغے گئے تھے۔