امریکی وزارت خارجہ کے انعامی پروگرام (Rewards for Justice) کی ایک پوسٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر بہت سے امریکیوں کی جانب سے تنقید کی لہر دوڑا دی ہے۔
گذشتہ روز جمعے کی شام 'ایکس' پر کی گئی ایک ٹویٹ میں ان 10 اہل کاروں کے بارے میں معلومات دینے پر 1 کروڑ ڈالر کی رقم پیش کی گئی جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ ہیں۔ ان میں سرفہرست ایران کے نئے رہبر (سپریم لیڈر) مجتبیٰ خامنہ ای ہیں۔ اس اشتہار میں ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی، وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب، وزیر داخلہ اسکندر مؤمنی اور خامنہ ای کے دفتر کے دو اہل کاروں کے نام بھی شامل ہیں۔ انعامی اعلان میں چار دیگر اہل کاروں کو بھی فہرست میں شامل کیا ہے، جن میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر اور ڈیفنس کونسل کے سکریٹری شامل ہیں، تاہم ان کے نام یا تصاویر شائع نہیں کی گئیں۔
Got information on these Iranian terrorist leaders?
— Rewards for Justice (@RFJ_USA) March 13, 2026
Send us a tip. It could make you eligible for a reward and relocation. pic.twitter.com/y7avkqdGWw
اس پوسٹ کا بڑے پیمانے پر تمسخر اڑایا گیا، جہاں بہت سے صارفین نے تبصرہ کیا کہ "واقعی؟ ان میں سے اکثر تو آج تہران کی سڑکوں پر نظر آئے ہیں"۔ یہ اشارہ گذشتہ روز جمعہ کو تہران میں منعقدہ "یوم قدس" کی ریلی میں کئی اہم ایرانی شخصیات کی شرکت کی طرف تھا۔
واضح رہے کہ28 فروری کو ایران کی اسرائیل و امریکہ کے ساتھ جنگ چھڑنے کے بعد یہ پہلا نادر موقع تھا جب صدر مسعود پزشکیان، علی لاریجانی، وزیر خارجہ عباس عراقچی، چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایژئی اور پولیس چیف احمد رضا رادان سمیت اعلیٰ ایرانی حکام عوامی سطح پر ظاہر ہوئے۔ یہ ریلی ایک ایسے وقت میں نکالی گئی جب اس کے قریبی مقام پر ہونے والی ضربوں میں سرکاری میڈیا کے مطابق کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیل نے ریلی کے مقام سے کچھ فاصلے پر وسطی تہران کے دو علاقوں کو خالی کرنے کا انتباہ جاری کیا تھا۔
Seriously? They were all out on the streets of Tehran with their bodyguards, TODAY, in broad daylight! pic.twitter.com/1qWXgJJA9R
— Soheil (@Soheilx) March 13, 2026
دوسری طرف، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی رہنما اپنی جان کے ڈر سے چھپے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک "ایرانی حکومت کے خلاف بلا روک ٹوک جنگ جاری رکھے گا"۔
Mr. Hegseth! Our leaders have been, and still are, among the people. But your leaders? On Epstein's island! https://t.co/iywavTegyv pic.twitter.com/rxFhzsWoq5
— Ali Larijani | علی لاریجانی (@alilarijani_ir) March 13, 2026
اس کے جواب میں علی لاریجانی نے 'ایکس' پر ایک نئی پوسٹ میں کہا کہ "ملک کے قائدین عوام کے درمیان ہیں"۔ ساتھ ہی انہوں نے طنزیہ سوال کیا کہ امریکی حکام کہاں ہیں اور کیا وہ "جیفری ایپسٹین" کے جزیرے پر ہیں؟ یہ حال ہی میں امریکی عوامی رائے عامہ میں زیر بحث رہنے والے ایپسٹین کیس کی طرف ایک اشارہ تھا۔