ایران کے خلاف جنگ جمعرات کو اپنے بیسویں دن میں داخل ہو چکی ہے جس کے اثرات پورے خطے پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایران پر بمباری کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور پڑوسی ممالک پر ایران کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کی برسات بھی تیز کر دی گئی ہے، خاص طور پر ایران میں پیرس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسی تناظر میں ایک اسرائیلی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور یہ مزید کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ خبر رساں اداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ اس اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج کے ترجمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج نے پہلی بار شمالی ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی عہدیدار کا یہ دعویٰ امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر کے اس بیان سے متصادم ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران میں مشن اپنے اختتام کے قریب ہے۔
یہ تمام صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں اپنے آپریشنز کو مضبوط بنانے کے لیے وہاں ہزاروں اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر غور کر رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
جہاں ایک طرف اسرائیل نے جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار شمالی ایران پر حملے کیے، وہیں دوسری طرف ایران کی جانب سے میزائلوں کی نئی لہر کے نتیجے میں اسرائیل کے 158 مقامات پر سائرن بج اٹھے۔ خلیجی خطے میں بھی ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر حملوں میں تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔