امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حال ہی میں اور اس پورے ہفتے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہونے کی تصدیق کے بعد ایرانی حکام نے اس معاملے کی مکمل طور پر تردید کر دی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے آج پیر کے روز اپنے بیان میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کا مقصد توانائی کی قیمتوں میں کمی لانا اور اپنے منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔ وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے بارے میں امریکی صدر کی باتیں دراصل ان کے فوجی منصوبے کے لیے وقت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔
"ہم نے جنگ شروع نہیں کی"
ساتھ ہی ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ کشیدگی میں کمی کے لیے کچھ تجاویز موجود ہیں، تاہم تہران نے ان پر جواب دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس نے جنگ شروع نہیں کی۔ بیان میں کہا گیا کہ کشیدگی کم کرنے کے حل ہمیں نہیں بلکہ امریکہ کو دیے جانے چاہئیں۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسی طرح ایک ایرانی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ نہ تو براہِ راست اور نہ ہی کسی ثالث کے ذریعے کوئی رابطہ کر رہا ہے۔
"ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے"
مذکورہ عہدیدار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ یہ سننے کے بعد پیچھے ہٹ گئے ہیں کہ ایران مغربی ایشیا کے تمام بجلی گھروں کو نشانہ بنائے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ ایرانی فوج تمام حملوں کے ذرائع کا جواب دیتی رہیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک یہ "نفسیاتی جنگ" جاری ہے، آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر واپس نہیں آئے گی۔
بالواسطہ مذاکرات؟
دوسری جانب باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان درحقیقت بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔اس حوالے سے ویب سائٹ "ایکسیس" نے رپورٹ کیا ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ثالث امریکہ اور ایران کے درمیان تمام مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
نیتن یاھوکا تبصرہ
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھونے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ کسی بھی برے معاہدے کو روکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران زوال کی طرف جا رہا ہے اور اس کی قوتیں پیچھے ہٹ رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل تہران کو اس ذلت کی گہرائی تک پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے جہاں وہ پہلے کبھی نہیں پہنچا تھا۔
Whatever your view of Iran, this war is not of their making. This is already causing widespread economic problems and I fear they promise to get much worse if the war continues. Oman is working intensively to put in place safe passage arrangements for the Strait of Hormuz.
— Badr Albusaidi - بدر البوسعيدي (@badralbusaidi) March 23, 2026
ادھر عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ پہلے ہی وسیع پیمانے پر معاشی نقصان پہنچا رہی ہے جو جاری رہنے کی صورت میں مزید بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے ایکس (ٹویٹر) پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ایران کے بارے میں جو بھی موقف ہو، لیکن یہ تنازعہ تہران کا پیدا کردہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ عمان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات میں اس وقت ثالثی کی تھی جب واشنٹگن اور اسرائیل نے سنہ 2026ء فروری 28 کو تہران پر حملے شروع کیے تھے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنانے والے کسی بھی فوجی حملے کو پانچ دن کے لیے ملتوی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ ہدایت اس ڈیڈ لائن سے کچھ گھنٹے قبل دی گئی جس سے جنگ میں مزید شدت آنے کا خطرہ تھا، جو اب اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گذشتہ دو روز کے دوران مشرق وسطیٰ میں دشمنی کے "حتمی اور جامع حل" کے حوالے سے "بہت اچھے اور تعمیری" مذاکرات ہوئے ہیں۔ انہوں نے بڑے حروف میں لکھے گئے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ انہوں نے وزارت دفاع کو ہدایت دی ہے کہ اس ہفتے جاری مذاکرات کے نتائج کے اعلان تک حملے ملتوی کر دیے جائیں۔
آبنائے ہرمز کھولنا
امریکی صدر نے گذشتہ ہفتے کی شام آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے پیر کی شام تک کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، بصورتِ دیگر ایرانی توانائی کی تنصیبات پر بمباری اور انہیں تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
اس کے جواب میں پاسداران انقلاب نے آج قبل ازیں کہا تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بجلی کے نیٹ ورک کو "مٹانے" کی دھمکی پر عمل کیا تو وہ اسرائیلی بجلی گھروں اور خطے بھر میں امریکی اڈوں کو بجلی فراہم کرنے والی تنصیبات پر حملہ کریں گے۔
اس صورتحال کے پیش نظر بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان شاید خطے میں مزید فوجی کمک پہنچانے کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔ ایرانی امور کے ماہر ولی نصر نے ایکس پر لکھا کہ ممکن ہے ڈونلڈ ٹرمپ وقت خرید رہے ہوں۔ جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ امریکی صدر کئی بار فوجی آپریشن کے تمام اہداف حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے فتح کے اعلان اور جنگ بندی کے قریب پہنچ چکے تھے، لیکن آبنائے ہرمز کے مسئلے نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔