اسرائیلی وزارت دفاع کی جانب سے جنوبی ایران پر فضائی حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری فوج کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کے قتل کی تصدیق کے بعد، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی مدد کی طرف اشارہ کیا ہے۔
آج جمعرات کو ایک وڈیو خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ ان کا ملک "پاسداران انقلاب کی بحری فوج کے کمانڈر کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اس شخص کے ہاتھ بہت سے خون سے رنگے ہوئے تھے اور اسی نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے آپریشن کی قیادت بھی کی تھی"۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قتل کا یہ آپریشن "جنگ کے اہداف کے حصول کے لیے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعاون کی ایک اور مثال ہے"۔
تاہم انہوں نے اس نشانے بازی کے آپریشن کے بارے میں مزید کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، لیکن اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل ایرانی نظام کے اہداف پر شدید حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری فوج کے کمانڈر کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ پاسداران انقلاب کی بحری انٹیلی جنس کے سربراہ بہنام رضائی کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی تھی۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف ایران کی طرف مذاکرات کا ہاتھ بڑھایا ہے تو دوسری طرف دھمکی کا ہتھیار بھی اٹھا رکھا ہے، کیونکہ انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو خبردار کیا ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اور انہیں وقت گزرنے سے پہلے معاہدہ کرنے پر زور دیا ہے۔
یہ بیان ایک پاکستانی عہدے دار کے اس انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے کہ اسلام آباد نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی قتل کے ان آپریشنز کو رکوائے جن میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاکہ مذاکرات کے لیے راستہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ امریکہ نے اسرائیلیوں سے ان دونوں شخصیات کے قتل کے کسی بھی آپریشن کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اگر مذاکرات کے دوران کوئی معاہدہ نہ ہوا تو تہران پر "جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے"، جبکہ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی اور سازوسامان بھی بھیج دیا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے جنگ شروع ہونے کے پہلے دن (28 فروری کو) درجنوں ممتاز سیاسی اور فوجی رہنماؤں، خاص طور پر پاسداران انقلاب کے عہدیداروں کو قتل کر دیا تھا۔ 28 فروری کو ہونے والے مشترکہ اسرائیلی امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی کو ختم کر دیا گیا تھا۔
اسرائیل نے بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی، ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ اور ان کے جانشین کے علاوہ درجنوں فوجی کمانڈروں اور افسران کو بھی قتل کیا۔
اسرائیل نے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے علاوہ فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل امیر حاتمی پاکپور کی ہلاکت کے بعد مقرر ہونے والے پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل احمد وحیدی اور خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
-
وقت ختم ہوتا جا رہا ہے ... ٹرمپ کا ایران کو انتباہ !
اامریکی صدر نے زور دیا ہے کہ نیٹو ممالک کا موقف ایک فیصلہ کن لمحہ ہے
بين الاقوامى -
ایران ملائیشینن تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے رہا ہے : انور ابراہیم
ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ ان کی ایران ، مصر ...
مشرق وسطی -
ایران نے تقریباً 85 فی صد میزائلوں کا رخ خلیجی ممالک کی طرف کر دیا ہے : خلیج تعاون کونسل
جاسم البدیوی کے مطابق "ہم دھوکہ دہی کے تسلسل اور جارحیت کو جھوٹے جوازوں میں لپیٹنے ...
مشرق وسطی