وقت ختم ہوتا جا رہا ہے ... ٹرمپ کا ایران کو انتباہ !

اامریکی صدر نے زور دیا ہے کہ نیٹو ممالک کا موقف ایک فیصلہ کن لمحہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار "عجیب اور متضاد" رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ان کے عوامی بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ابھی تک امریکی تجاویز کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

آج جمعرات کو اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" کے ذریعے انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو سخت فوجی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کے پاس واپسی کا کوئی موقع نہیں ہے۔ انہوں نے تہران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں سنجیدگی اختیار کرے۔

امریکی صدر نے ایران کو یہ انتباہ بھی جاری کیا کہ "وقت ختم ہوتا جا رہا ہے"۔

ان کے مطابق جلد کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کی صورت میں ایسی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے جسے واپس نہیں لیا جا سکے گا۔
ان کا خیال تھا کہ ایرانی مذاکرات کاروں کو وقت گزرنے سے پہلے معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا "وہ معاہدہ کرنے کے لیے ہماری منتیں کر رہے ہیں"۔

اسی تناظر میں امریکی صدر نے نیٹو ممالک کے کردار پر اپنے شکوے کی تجدید کی، جہاں انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں ان کے ملک کی مدد نہیں کی۔

ٹرمپ نے مزید کہا "ہمیں ان سے کچھ نہیں چاہیے"۔

امریکی صدر نے اسے ایک فیصلہ کن لمحہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک ایران کے معاملے میں نیٹو ممالک کی جانب سے مدد نہ کرنے کو فراموش نہیں کرے گا۔

امریکی صدر کے یہ بیانات ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ثالثوں کے ذریعے جاری مسلسل مشاورت کے دوران سامنے آئے ہیں۔ با خبر امریکی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو تہران کے خلاف فوجی کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

ذرائع نے وضاحت کی کہ اگر ایرانی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند رکھا گیا تو فوجی کارروائیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ یہ بات آج جمعرات کو ویب سائٹ axiosنے اپنی رپورٹ میں بتائی۔

یہ صورت حال ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جنگ اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس دوران ایک طرف اسرائیل اور ایران کے درمیان فضائی حملوں کا تبادلہ جاری ہے، تو دوسری طرف ایرانی جانب سے خلیجی ممالک کی طرف میزائل اور ڈرونز داغے جا رہے ہیں جن کا مقصد مبینہ طور پر امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانا ہے۔

تہران نے آبنائے ہرمز کو بھی بند کر رکھا ہے جسے عالمی سطح پر ایک اہم بحری راستہ تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ یہاں سے دنیا کی گیس اور تیل کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

اس کے پیش نظر اسلام آباد کے حکام نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی فریق کو ایک امریکی تجویز پیش کی ہے اور وہ جواب کے منتظر ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آج "ایکس" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پاکستان کے ذریعے پہنچائے جانے والے پیغامات کی صورت میں جاری ہیں جبکہ ترکیہ اور مصر بھی اس کوشش میں مدد کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں