ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ ان کی ایران ، مصر اور ترکیہ کے علاوہ علاقے کے دیگر ملکوں میں بھی بات ہوئی ہے۔ نیز ایران آبنائے ہرمز سے اب ملائیشیا کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ انورابراہم نے ان خیالات کا اظہار ٹی وی پر اپنے خطاب میں کیا ہے۔
انہوں نے اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پیز شکیان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ملائیشین جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کا کہا۔ انہوں نے اس سلسلے میں کہا ہم اب ملائیشیا کے تیل بردار جہازوں کو اور ان سے متعلق کارکنوں کو ملائیشیا جانے یا اپنے طے شدہ کسی بھی اور سفر کی اجازت کے مرحلے میں ہیں۔
وزیر اعطم نے کہا ان کا دیگر ملکوں کے قائدین سے بھی مشرق وسطیٰ میں امن لانے کی کوششوں کے لیے تبادلہ خیال ہوا ہے۔ مگر یہ اتنا آسان نہیں ہے ۔ کیونکہ ایران سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھ کئی بار دھوکہ بازی کی گئی ہے کہ اسے مذاکراتی عمل کے دوران جنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ایران چاہتا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کی واضح ضمانتوں کے بغیر اب جنگ بندی نہ کرے۔
انور ابراہیم نے اپنے خطاب میں ملائیشین عوام کو یقین دلایا کہ حکومت تیل کی قیمتوں میں استحکام رکھنے کے لیے اقدامات کرتی رہے گی۔ تاکہ جنگ کے کم سے کم اثرات ملائیشین عوام کو برداشت کرنا پڑیں۔ انہوں نے تیل کی اعانتی فراہمی میں بھی کمی کا ذکر کیا کہ اس ہنگامی صورت حال میں ایسا کرنا کیوں متاثر ہورہا ہے۔
-
ہم تہران میں جمہوری طرز حکومت چاہتے ہیں ... آذربائیجان ڈیموکریٹک پارٹی آف ایران
ایک ایرانی اپوزیشن جماعت نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ گذشتہ چار ہفتوں سے جاری جنگ ...
مشرق وسطی -
انٹرنیٹ بندش کے دوران ایران میں اسٹارلنک سے انٹرنیٹ کی فراہمی
ایران میں جنگ کے نتیجے میں ملک میں انٹرنیٹ تقریباً مکمل طور پر منقطع ہو گیا، جس کے ...
بين الاقوامى -
وقت ختم ہوتا جا رہا ہے ... ٹرمپ کا ایران کو انتباہ !
اامریکی صدر نے زور دیا ہے کہ نیٹو ممالک کا موقف ایک فیصلہ کن لمحہ ہے
بين الاقوامى