لیبیا میں شادی پر نایاب ہرن بطور تحفہ پیش کرنے پر شدید ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے شدید غصے اور مذمت کی لہر دوڑا دی، جس میں ایک نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار ہرن کو شادی کی تقریب میں بطور تحفہ پیش کرتے دکھایا گیا، جسے ایک صدمہ خیز اور غیر انسانی منظر قرار دیا جا رہا ہے۔

ویڈیو میں ''دورکاس'' (Dorcas Gazelle)نسل کے ہرن کو ایک شفاف شیشے کے ڈبے میں نہایت سجاوٹ کے ساتھ رکھا گیا ہے، جس کے گرد سرخ پھول لگائے گئے ہیں۔

اگرچہ منظر بظاہر جشن کا حصہ لگتا ہے، لیکن اس پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل دیا اور اسے جانوروں کے استحصال کی مثال قرار دیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جنگلی جانور کو محض نمائش اور دکھاوے کے لیے استعمال کیا گیا، جو اس کے حقوق اور فطری ماحول کے منافی ہے۔

اشرف غنیوہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا:یہ واقعہ جانوروں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور ایک جنگلی مخلوق کو اس کے قدرتی ماحول سے ہٹ کر استعمال کرنے کی مثال ہے۔

انہوں نے تقریبات میں جانوروں کو سجاوٹ کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت کی۔

دوسری جانب نہیٰ الزناتی کا کہنا تھا : ہرن کو محض تماشے کے لیے شیشے کے ڈبے میں رکھنا جرم اور قانونی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر جب یہ نایاب نسل سے تعلق رکھتا ہو۔

ان کے مطابق ایسے رویوں پر خاموشی اختیار کرنا ان کے دہرانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

لیبیا کی جنگلی حیات کے تحفظ کی تنظیم نے بھی اتوار کو جاری بیان میں اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی جاندار کو نمائش یا تفریح کے لیے استعمال کرنا غیر انسانی رویہ ہے اور یہ قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ "دورکاس" (Dorcas Gazelle)ہرن عالمی ادارہ برائے تحفظِ فطرت (IUCN) کی ریڈ لسٹ میں شامل ایک خطرے سے دوچار نسل ہے اور اسے سخت بین الاقوامی تحفظ حاصل ہے۔

یہ ہرن صحرائی ماحول سے ہم آہنگ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بغیر پانی پیے بھی زندہ رہ سکتا ہے، جو اسے ایک منفرد مخلوق بناتا ہے جسے تحفظ کی ضرورت ہے، نہ کہ استحصال کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں