جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے ہمیں 300 میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا:اردن

ایرانی حملوں کا کوئی جواز نہیں، اردنی زمین اور فضائی حدود کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوں گی: اردنی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اردنی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے آغاز سے اب تک تقریباً 300 ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے ملک کو نشانہ بنایا ہے، تاہم ان میں سے بھاری اکثریت کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

مسلح افواج میں فوجی میڈیا کے ڈائریکٹر کرنل مصطفیٰ الحیاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ایران نے مملکتِ اردن کی سرزمین پر 281 میزائل اور ڈرون فائر کیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اردنی رائل ایئر فورس اور فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے 261 میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا ہے۔

کرنل الحیاری نے وضاحت کی کہ ایران اور خطے کے بعض مسلح گروہ کسی جواز کے بغیر اردنی سرزمین کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں، حالانکہ اردن نے شروع سے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ اس کی سرزمین اور فضائی حدود کسی بھی ملک پر فوجی حملے کے لیے استعمال نہیں ہوں گی۔

ایران پر حملے کے آغاز کے بعد سے تہران جوابی کارروائی کے طور پر اسرائیل اور عرب ممالک پر میزائل اور ڈرونز برسا رہا ہے۔ ان میں سے بعض حملوں نے توانائی کی تنصیبات اور شہری مقامات کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ تہران کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف امریکی مفادات اور جنگ میں استعمال ہونے والے اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

اردن میں کوئی مستقل غیر ملکی فوجی اڈہ موجود نہیں ہے، البتہ کئی ممالک کی محدود افواج اس کے بعض اڈوں پر تعینات ہیں۔ عمان اور خلیجی ممالک بارہا اس عزم کا اعادہ کر چکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین سے ایران پر حملوں کی اجازت نہیں دیں گے۔

اردنی حکومت کے ترجمان محمد المومنی نے کانفرنس کے دوران زور دے کر کہا کہ مملکت کی سرزمین پر کوئی غیر ملکی اڈہ نہیں ہے، تاہم متعدد دوست اور برادر ممالک کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے موجود ہیں جنہیں ہم اردن کی قومی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے فعال کرتے ہیں۔

دوسری جانب الحیاری نے کہا کہ عمان پڑوسی ممالک میں موجود مسلح گروہوں کی جانب سے اردنی سرزمین کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کی نگرانی کر رہا ہے اور ہماری افواج ان خطرات سے فیصلہ کن انداز میں نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

واضح رہے کہ اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ ان کے ملک کو عراقی مسلح گروہوں کے حملوں کا سامنا ہے اور ان کارروائیوں کا رکنا ناگزیر ہے۔

اردنی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ان حملوں کے نتیجے میں 29 افراد زخمی ہوئے جو علاج کے بعد ہسپتالوں سے فارغ ہو چکے ہیں۔ مالی نقصانات کے حوالے سے بتایا گیا کہ اب تک 31 گاڑیوں، 59 گھروں و دکانوں اور 16 عوامی املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں