آج منگل کے روز دنیا اپنی سانسیں روکے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے انجام کی منتظر ہے۔ اس دوران امریکی ویب سائٹ Axios نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں نے ثالثوں کو مطلع کیا ہے کہ آج ختم ہونے والی مہلت میں توسیع پر غور کرنے کے لیے کچھ مثبت اشارے ملنا ضروری ہیں، تاہم ایک امریکی اہل کار نے اس مہلت میں توسیع کے امکان پر شک ظاہر کیا ہے۔
ایک طرف جہاں ایرانی حکام نے نوجوانوں کو ملک کے بجلی گھروں کے گرد "انسانی ڈھال" بنانے کی کال دی ہے، وہیں "Axios" نے ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایرانی رد عمل کو انکار کے بجائے مذاکراتی چال کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ثالثوں کے خیال میں ایران میں فیصلہ سازی کا عمل سست ہے اور انہوں نے واشنگٹن کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ایرانیوں کے ساتھ مل کر تجاویز میں ترامیم پر کام کر رہے ہیں۔
المحلل السياسي بشار جرار: ترمب لن يمدد مهلة إعادة فتح مضيق هرمز الممنوحة لطهران مجددا.. وقادة إيران والنخب السياسية منفصلون عن الواقع ويخدعون ويضللون الآخرين pic.twitter.com/jy9QtEQHT5
— العربية (@AlArabiya) April 7, 2026
اس سے قبل امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ نجی گفتگو میں ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے کم پُر امید نظر آئے۔ اسرائیلی اخبار "معاریف" نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسرائیل کے اندازوں کے مطابق ٹرمپ کسی بھی قیمت پر جنگ ختم کرنے کے لیے ابھی تیار نہیں ہیں۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ "ہم نے ایران میں اپنے اہداف ابھی مکمل نہیں کیے، جنگ کی لاگت ابھی برداشت کے قابل ہے اور ہم ایران پر فوجی دباؤ بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔"
اسی تناظر میں آج منگل کی صبح ایک ایرانی عہدے دار نے امریکی صدر کی جانب سے دھمکی آمیز حملوں سے قبل نوجوانوں سے بجلی گھروں کے گرد "انسانی زنجیریں" بنانے کی اپیل کی ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر سپریم کونسل برائے نوجوانان کے سکریٹری علی رضا رحیمی نے ایک وڈیو پیغام میں کہا "میں تمام نوجوانوں، کھلاڑیوں، فنکاروں اور طلبہ و اساتذہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ منگل کے روز دوپہر دو بجے بجلی گھروں کے گرد جمع ہوں، کیونکہ یہ ہمارے قومی اثاثے ہیں جن کا تعلق کسی بھی سیاسی نظریے سے بالا تر ہو کر ایران کے مستقبل اور یہاں کے نوجوانوں سے ہے۔" ماضی میں بھی ایران ایٹمی تنصیبات کے گرد اس طرح کی "انسانی ڈھال" بنا چکا ہے۔
على ماذا تراهن إيران؟ المحلل السياسي مصدق بور: طهران تملك أسلحة لم تستخدمها في الحرب حتى الآن.. وسوف تغلق مضيق هرمز في وجه الأصدقاء والأعداء pic.twitter.com/pCP6Y9kLFk
— العربية (@AlArabiya) April 7, 2026
کشیدگی اور متضاد تجاویز کے درمیان جنگ بندی کی شرائط اور وقت پر فریقین کے موقف منقسم ہیں۔ ایک ایرانی ذریعے نے "سی این این" کو بتایا کہ تہران جنگ کا خاتمہ تو چاہتا ہے لیکن وہ صدر ٹرمپ کے بتائے ہوئے "طریقے یا وقت" کو قبول نہیں کرتا۔ یاد رہے کہ ایران نے جنگ بندی کی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری ایجنسی کے مطابق اس جواب میں جنگ بندی کے بجائے مستقل طور پر جنگ ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ یہ جواب 10 نکات پر مشتمل ہے، جن میں علاقائی تنازعات کا خاتمہ، آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کا پروٹوکول، پابندیوں کا خاتمہ اور تعمیرِ نو شامل ہیں۔