متحدہ عرب امارات کی ابو ظہبی پولیس نے بدھ کے روز لگ بھگ چار سو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر کچھ تصاویر کو پھیلانے کے جرم کا اتکاب کیا ہے۔ ان کی غیر قانونی تصاویر سے انٹرنیٹ کے ذریعے غلط اطلاعات کی تشہیر ہو رہی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 375 ہے۔ ان زیر حراست لیے گئے افراد کا مختلف ملکوں سے تعلق ظاہر کیا گیا ہے۔ ان افراد نے یہ مختلف مواقع اور مقامات کی تصاویر ویب سائٹس یا سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائیں۔
پبلک پراسیکیوشن کے مطابق ان زیر حراست افراد کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پراسیکیوشپبن کی طرف سے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر سامنے آیا ہے۔ بیان کے مطابق عوامی سطح پر ایسی تصاویر بنانے اور پھیلانے سے منع کیا گیا تھا مگر خبردار کرنے کے باوجود ان افراد کی طرف سے خلاف ورزی کی گئی۔
نیز یہ بھی کہا گیا کہ حکام کسی بھی شخص کا جرم ثابت ہو جانے کے بعد اس کے خلاف قانونی اقدام کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ کیونکہ یہ قانون کی رو سے قابل سزا جرم ہے۔
بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ درست اور قابل اعتماد اطلاعات ہی سامنے لانی چاہییں۔ جو قابل اعتماد سرکاری ذرائع سے سامنے آنے والی ہی اطلاعات ہونی چاہییں اور افواہیں نہیں پھیلائی جانی چاہییں۔
یاد رہے امریکہ اور اسرائیل کی جانی مانی افواج نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ اس دوران ایران نے ان ملکوں کو بھی نشانہ بنایا جو امریکہ اور اسرائیل کے اتحادی تھے یا امریکی فوجی اڈوں کے میزبان ہیں۔ اس دوران ایران نے متحدہ عرب امارات کو بھی بہت زیادہ میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا اور کافی نقصان کیا۔