سعودی عرب: فرسان جزائر میں 546 ملین ریال کے ترقیاتی منصوبوں پرکام شروع
حالیہ وقت میں 398 ملین ریال کی لاگت سے بلدیاتی شعبے کے 19 منصوبوں پر عمل درآمد جاری
سعودی عرب نے ملک کے جنوب مغرب میں واقع جازان ریجن کے تحت فرسان جزائر میں ترقیاتی منصوبوں کے ایک پیکج کی نقاب کشائی کی ہے۔ یہاں مجموعی طور پر 546 ملین ریال کی لاگت سے تقریباً 28 منصوبوں پر کام ہو رہا ہے جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور اس علاقے کی سیاحتی اہمیت کو بڑھانا ہے۔ جازان میونسپلٹی کے مطابق ان منصوبوں میں 398 ملین ریال مالیت کے 19 بلدیاتی منصوبے شامل ہیں جن میں سے 48 ملین ریال کے 14 منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 70 ملین ریال کی لاگت سے دو سرمایہ کاری منصوبے ہیں جن میں فرسان ہوٹل کی تعمیر اور صنعتی منصوبے شامل ہیں۔ 280 ملین ریال کی لاگت سے رہائش کے تین منصوبے بھی زیر تعمیر ہیں۔
اپنی سیاحتی صلاحیتوں کے باعث فرسان جزائر تاریخی آثار اور قدرتی مناظر سے مالا مال ہیں۔ یہاں 84 سے زیادہ مرجانی جزائر پائے جاتے ہیں۔ موجودہ وقت میں 148 ملین ریال کی لاگت سے 9 منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں 68 ملین ریال کے بلدیاتی منصوبے، 40 ملین ریال کی لاگت سے الحرید ریزورٹ کی تعمیر کا سرمایہ کاری منصوبہ اور 40 ملین ریال کا ایک رہائشی ترقیاتی منصوبہ شامل ہے جس میں 92 رہائشی یونٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
فرسان جزائر میں سرمایہ کاری کے شاندار مواقع موجود ہیں۔ میونسپلٹی مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ وہ اس سیاحتی مقام کی ترقی میں حصہ لیں، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور مقامی معیشت کو تقویت ملے۔
واضح رہے فرسان جزائر سیاحتی منظر نامے میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ یہ جیزان شہر سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں اور تقریباً 1050 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے 84 سے زائد مرجانی جزائر پر مشتمل ہیں۔ یہ پائیدار سیاحت کا ایک مکمل نمونہ ہے جہاں ماحول کے تحفظ اور مقامی معیشت کی ترقی کے درمیان توازن برقرار رکھا گیا ہے۔ جزائر کی خوبصورتی ان کے سفید ریتلے ساحلوں اور شفاف فیروزی پانی میں جھلکتی ہے جو دنیا بھر سے غوطہ خوری اور مچھلی کے شکار کے شوقین افراد کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ یہاں مینگروو
(قندل) کے جنگلات وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں جو حیاتیاتی تنوع کا ایک بھرپور قدرتی ماحول فراہم کرتے ہیں۔
اس جزیرہ نما میں ایک مربوط ماحولیاتی نظام موجود ہے جس میں پودوں کی 180 سے زائد اقسام اور پرندوں کی 200 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ ان پرندوں میں عقاب، گرے پیلیکن، سلیٹی بگلا اور دیگر ہجرت کرنے والے پرندے شامل ہیں۔ اس کے سمندری پانی میں مچھلیوں کی سینکڑوں اقسام کے علاوہ نایاب سمندری مخلوقات جیسے سبز کچھوے، ہاکس بل کچھوے، ڈولفن، شارک اور وہیل کی بعض اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہ جزیرہ نما سعودی عرب میں ادری ہرن، جسے مقامی طور پر فرسانی ہرن کہا جاتا ہے، کا سب سے بڑا مسکن بھی ہے۔
تاریخی طور پر فرسان جزائر ایک قدیم تہذیبی ورثہ رکھتے ہیں جو مختلف آثار قدیمہ میں نمایاں ہے جن میں سب سے اہم "القصار گاؤں" ہے جہاں حمیری دور کے پتھروں سے بنے مکانات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ وادی مطر، بیت الجرمل، بیت الرفاعی اور 1347 ہجری میں تعمیر شدہ مسجد النجدی بھی قابل ذکر ہیں۔ تاریخی طور پر یہ جزائر موتیوں کے شکار کے مراکز کے طور پر بھی مشہور رہے ہیں جس نے یہاں کی معیشت اور ثقافتی و معمارانہ ورثے کو مالا مال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
فرسان جزائر سالانہ لاکھوں سیاحوں، فطرت کے شیدائیوں اور غوطہ خوروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ سعودی ریڈ سی اتھارٹی کی مسلسل کوششوں کے باعث یہاں ساحلی سیاحت کے شعبے کو فروغ دیا جا رہا ہے اور بنیادی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے نئے ہوٹل اور ریزورٹس تعمیر کیے جا سکیں