عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کو آج برطانیہ کے وزیر اعظم کیر سٹارمر کا فون موصول ہوا جس میں انہوں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال اور سلامتی و استحکام پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ بات چیت پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے کسی معاہدے کے بغیر ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔
عمان نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے پر بات کی ہے۔ انہوں نے کشیدگی پر قابو پانے اور بحران کی جڑوں کو حل کرنے کے طریقوں پر بھی غور کیا تاکہ استحکام کو فروغ دیا جا سکے اور خطے کے ممالک کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔
اسی تناظر میں دونوں جانب سے بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی جاری رکھنے اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی بنیاد پر امن، سفارتی حل اور سکون کی کوششوں کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے پیش نظر عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے امریکہ اور ایران پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے کام کریں اور مذاکرات کی کامیابی کے لیے جسے انہوں نے تکلیف دہ مراعات کا نام دیا، وہ پیش کریں۔
البوسعیدی نے ایکس پلیٹ فارم پر لکھا کہ میں جنگ بندی میں توسیع اور بات چیت جاری رکھنے پر زور دیتا ہوں۔ کامیابی کے لیے ہر ایک کو تکلیف دہ سمجھوتے کرنے پڑ سکتے ہیں لیکن اس کا موازنہ ناکامی اور جنگ کے دکھ سے نہیں کیا جا سکتا۔ واشنگٹن اور تہران سے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھنے کے لیے بین الاقوامی مطالبات کا سلسلہ جاری ہے حالانکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اور ایرانیوں نے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی امریکی شرائط کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز اور ایکسیس ویب سائٹ کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اختلافات میں ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کا مطالبہ اور افزودہ یورینیم کے ذخائر سے دستبردار ہونے سے انکار شامل ہے۔