کیا ’سبز نمک‘ واقعی بلڈ پریشر کم کرنے کا متبادل ہوسکتا ہے؟

سوڈیم میں کمی اور پوٹاشیم میں اضافہ اثر انگیزی کی بنیاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

نمک کے صحت مند متبادل کی تلاش کے دوران اب ’سبز نمک‘ ایک ایسے انتخاب کے طور پر ابھر رہا ہے جو بلڈ پریشر کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ’ویری ویل ہیلتھ‘ ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ روایتی نمک کے مقابلے میں کم سوڈیم والا متبادل ہے جو اسے دل کی صحت کے لیے ممکنہ طور پر مفید بناتا ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سبز نمک کوئی دقیق سائنسی اصطلاح نہیں ہے بلکہ یہ لفظ پودوں، جڑی بوٹیوں یا کائی (طحالب) سے حاصل کردہ نمک کے متبادل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں عموماً سوڈیم کی مقدار کم ہوتی ہے جبکہ پوٹاشیم، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس جیسے دیگر عناصر موجود ہوتے ہیں۔

اس فرق کی اہمیت یہ ہے کہ سوڈیم کی زیادتی جسم کے اندر پانی کے ٹھہراؤ کا باعث بنتی ہے جس سے خون کا حجم بڑھ جاتا ہے اور رگوں پر دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس پوٹاشیم رگوں کو سکون پہنچانے اور جسم سے سوڈیم کے اخراج میں مدد دیتا ہے جس کے مثبت اثرات بلڈ پریشر پر مرتب ہوتے ہیں۔

تجزیوں سے ثابت ہوا ہے کہ عام نمک کو کم سوڈیم والے متبادل سے بدلنے سے بالغ افراد میں بلڈ پریشر کی نچلی سطح (ڈائیسٹولک) میں تقریباً 2.4 ملی میٹر اور اوپری سطح (سسٹولک) میں تقریباً 4.7 ملی میٹر تک کمی آ سکتی ہے خواہ وہ بلند فشارِ خون کے مریض نہ بھی ہوں۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن بھی یہ سفارش کرتی ہے کہ روزانہ سوڈیم کا استعمال 2300 ملی گرام سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے اور اسے 1500 ملی گرام تک کم کرنا بہتر ہے جس سے غذا میں نمک کم کرنے کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔

سب کے لیے موزوں نہیں

ان فوائد کے باوجود ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سبز نمک تمام افراد کے لیے موزوں انتخاب نہیں ہو سکتا خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو گردوں کے امراض میں مبتلا ہیں یا ایسی ادویات لے رہے ہیں جو پوٹاشیم کے توازن کو متاثر کرتی ہیں کیونکہ اس کی زیادتی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

مزید برآں اس مخصوص قسم کے نمک پر براہ راست شواہد اب بھی محدود ہیں اور سفارشات کا دارومدار بنیادی طور پر کسی خاص مصنوعہ کے بجائے عمومی طور پر سوڈیم کم کرنے کے اثرات پر ہے۔

مجموعی طور پر سبز نمک ایک متوازن غذا کے اندر ایک بہتر انتخاب ثابت ہو سکتا ہے لیکن اس کا اثر پوری غذا کے سیاق و سباق پر منحصر ہے نہ کہ بلڈ پریشر کم کرنے کے کسی تنہا حل کے طور پر۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size