صرف ایک ہفتہ مراقبے سے دماغی کارکردگی میں ممکنہ تبدیلیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے محققین نے انکشاف کیا ہے کہ ایک ہفتے کا ایسا پروگرام جس میں مراقبہ اور جسم و ذہن کو مربوط کرنے والی دیگر تکنیکیں شامل ہوں، دماغ کی سرگرمی اور جسمانی ساخت دونوں میں تیزی سے نمایاں تبدیلیاں لا سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ مشقیں دماغ کی لچک (نیوروپلاسٹیسٹی)، میٹابولزم، مدافعتی نظام کی کارکردگی اور درد کم کرنے والے قدرتی راستوں کو متحرک کرتی ہیں۔

سائنس ڈیلی کے مطابق جریدے Communications Biology میں شائع اس تحقیق نے مزید شواہد فراہم کیے ہیں کہ ذہنی مشقیں جسمانی صحت پر بھی گہرا اثر ڈال سکتی ہیں۔

مزید یہ کہ نتائج سے معلوم ہوا کہ صرف 3 سے 7 منٹ کی مختصر مراقبہ مشق بھی توقع سے زیادہ تیزی سے اثرات ظاہر کر سکتی ہے۔

ہزاروں سال پرانے قدیم طریقے

قدیم طرزِ عمل اور طریقے ہزاروں سالوں سے صحت کی بہتری کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں، تاہم سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں دشواری رہی ہے کہ یہ طریقے جسم پر کس طرح اور کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔

موجودہ تحقیق جو InnerScience ریسرچ فنڈ کے تعاون سے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے، اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے ،جس میں ذہن اور جسم کو جوڑنے والی مختلف تکنیکوں کے مشترکہ حیاتیاتی اثرات کو منظم انداز میں ماپا گیا ہے، وہ بھی ایک مختصر مدت کے اندر۔

حیاتیاتی نظاموں میں تبدیلی

مطالعہ کے مرکزی محقق ہیمال پٹیل جو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے میڈیکل کالج میں اینستھیزیا کے پروفیسر اور سان ڈیاگو میں ویٹرنز ہیلتھ کیئر سسٹم کے سائنسدان ہیں، نے کہا کہ ہم کئی برسوں سے جانتے ہیں کہ مراقبہ جیسی مشقیں صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ذہن اور جسم کو یکجا کرنے والی مختلف مشقوں کو ایک ہی خلوت میں شامل کرنے سے متعدد حیاتیاتی نظاموں میں ایسے واضح تبدیلیاں پیدا ہوئیں، جنہیں ہم نے براہ راست دماغ اور خون میں ماپا۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ صرف ذہنی دباؤ کم کرنے یا آرام تک محدود نہیں بلکہ اس سے دماغ کے حقیقت کے ساتھ تعامل کے طریقے میں بنیادی تبدیلی آتی ہے، ان تبدیلیوں کو حیاتیاتی سطح پر ناپا بھی جا سکتا ہے۔

مطالعے کے مطابق 7 دن کے اس پروگرام کے دوران یہ اثرات تناؤ میں کمی، ذہنی سکون اور دماغی ردعمل میں گہری تبدیلیوں کی صورت میں سامنے آئے۔

ظاہری وہم پر مبنی علاج
اس تحقیق میں 20 صحت مند بالغ افراد کا مشاہدہ کیا گیا، جنہوں نے 7 روزہ ایک خلوت میں حصہ لیا، جس کی قیادت جو ڈسپینزا نے کی جو ری ایجوکیشنل میڈیسن کے ڈاکٹر نیورو سائنس کے استاد اور اس شعبے میں متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

شرکاء نے لیکچرز میں شرکت کی اور تقریباً 33 گھنٹے کی گائیڈڈ مراقبہ مشقیں کیں، اس کے علاوہ گروپ کی صورت میں مختلف تھراپی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔

اس پروگرام میں ''اوپن لیبل وہم پر مبنی علاج'' (ظاہری یا کھلا وہم پر مبنی علاج) کا طریقہ استعمال کیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ شرکاء کو معلوم تھا کہ کچھ مشقیںوہم پر مبنی علاج اثر پر مبنی ہیں۔

اس کے باوجود اجتماعی تجربے اور سماجی رابطے کے ذریعے یہ طریقے حقیقی جسمانی اور ذہنی اثرات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

خلوت سے پہلے اور بعد میں محققین نے فنکشنل ایم آر آئی (fMRI) کے ذریعے دماغی سرگرمی کا جائزہ لیا، جبکہ خون کے نمونے بھی لیے گئے تاکہ میٹابولزم، مدافعتی نظام اور دیگر حیاتیاتی اشاریوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کیا جا سکے۔

نمایاں تبدیلیاں

خلوت کے بعد کئی اہم تبدیلیاں نوٹ کی گئیں:

دماغی نیٹ ورک میں تبدیلیاں: دماغ کے ان حصوں میں سرگرمی کم ہو گئی جو اندرونی ذہنی گفتگو (self-talk) سے متعلق ہیں، جو دماغی کارکردگی میں بہتری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اعصابی لچک میں اضافہ: خلوت کے بعد لیے گئے خون کے پلازما نے لیبارٹری میں موجود اعصابی خلیات کو بڑھنے اور نئے رابطے بنانے پر ابھارا۔

میٹابولک تبدیلیاں: جن خلیات کو خلوت کے بعد کے پلازما کے سامنے رکھا گیا، ان میں گلوکوز کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا، جو میٹابولک لچک میں بہتری کی علامت ہے۔

قدرتی درد کم کرنے کا اثر: جسم کے اندر موجود قدرتی درد کم کرنے والے مادوں (اینڈورفنز) کی سطح میں اضافہ ہوا۔

مدافعتی نظام کی سرگرمی: سوزش پیدا کرنے اور سوزش کم کرنے والی دونوں اقسام کی مدافعتی علامات میں اضافہ دیکھا گیا، جو متوازن مدافعتی ردعمل کی نشاندہی کرتا ہے۔

جینیاتی اور مالیکیولر تبدیلیاں: چھوٹے RNA اور جینز کی سرگرمی میں ایسی تبدیلیاں دیکھی گئیں، جو دماغ سے متعلق حیاتیاتی راستوں سے جڑی ہوئی ہیں۔

روحانی تجربات

شرکاء نے MEQ-30 نامی ایک سوالنامہ بھی مکمل کیا، جو مراقبے کے دوران تنہائی روحانی بلندی اور شعور میں تبدیلی جیسے احساسات کو ماپتا ہے۔

اس میں اوسط اسکور 2اعشاریہ37 سے بڑھ کر ریٹریٹ کے بعد 3اعشاریہ02 ہو گیا۔جن افراد نے زیادہ گہرے روحانی تجربات رپورٹ کیے، ان میں زیادہ واضح حیاتیاتی تبدیلیاں بھی دیکھی گئیں، جن میں دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان بہتر رابطہ شامل تھا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گہرے ذاتی تجربات دماغی افعال میں قابلِ پیمائش تبدیلیوں سے جڑے ہو سکتے ہیں۔

یہ نتائج اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ مراقبہ جیسے غیر دوائی طریقے عوامی صحت میں کس طرح کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اعصابی لچک میں اضافہ اور مدافعتی نظام پر اثر کے ذریعے جذباتی توازن، ذہنی دباؤ کے مقابلے کی صلاحیت اور مجموعی ذہنی صحت میں بہتری ممکن ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی درد کم کرنے والے کیمیکلز میں اضافہ دائمی درد کے انتظام میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید تحقیق

اگرچہ اس تحقیق میں صحت مند افراد کو شامل کیا گیا تھا، لیکن محققین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کو مریضوں پر لاگو کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

مستقبل کی تحقیقات یہ جانچیں گی کہ آیا اسی طرح کے پروگرام دائمی درد، مزاجی (موڈ) کی خرابیوں یا مدافعتی نظام سے متعلق بیماریوں میں مبتلا افراد کی مدد کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ محققین کی ٹیم یہ بھی جاننے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے کہ خلوت کے مختلف عناصر—جیسے مراقبہ، سوچ کے انداز کو بدلنا (ری فریمنگ) اور وہم پر مبنی علاج اثرانفرادی اور اجتماعی طور پر کس طرح کام کرتے ہیں۔

ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ یہ حیاتیاتی تبدیلیاں کتنی دیر تک برقرار رہتی ہیں اور کیا بار بار کی جانے والی مشقیں ان اثرات کو مزید مضبوط یا مستقل بنا سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں