امریکی وزارت خارجہ نے ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو نشانہ بناتے ہوئے پابندیوں کے نئے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تہران اور اس کے ایجنٹوں کو مالی وسائل سے محروم کرنے کے لیے "انتہائی دباؤ" کی پالیسی جاری رکھی جائے گی۔
وزارت خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ ان پابندیوں کا ہدف محمد حسین شامخانی سے وابستہ اربوں ڈالر کی تیل کی اسمگلنگ کی وہ سلطنت ہے جو ایرانی حکومت اور اس کے اشرافیہ کی مالی معاونت کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک علیحدہ نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جو حزب اللہ تنظیم اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فنڈنگ کے لیے "تیل کے بدلے سونا" کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ نے زور دیا کہ یہ اقدامات واشنگٹن کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد ایران کی مالی آمدنی حاصل کرنے کی صلاحیت کو کم کرنا ہے، خاص طور پر ان حالات میں جب وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی نقل و حرکت روکنے کی کوششیں کر رہا ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت اپنے وسائل علاقائی اتحادیوں کی حمایت کے لیے وقف کیے ہوئے ہے، جبکہ وہاں کے شہری معاشی بد حالی کا شکار ہیں۔ تیل اور سونے کی اسمگلنگ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی مالی معاونت پر مشتمل یہ پیچیدہ نیٹ ورکس پابندیوں سے بچنے کی تہران کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ان نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے اور انہیں ناکارہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی کی یادداشت کے بعد سے اب تک ایرانی سرگرمیوں کے خلاف مہم کے تحت ایک ہزار سے زائد افراد، بحری جہازوں اور طیاروں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔
واشنگٹن نے واضح کیا کہ وہ ایران اور اس کے ایجنٹوں کو ان وسائل سے محروم کرنے کی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا جو امریکی مفادات اور خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔