ایرانی انقلابی گارڈز (سپاہ پاسداران انقلاب) نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
تہران نے اس فیصلے کو امریکا کی جانب سے جاری ''محاصرے'' کا ردعمل قرار دیا ہے، جس کے بعد ایک روز قبل اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے اپنے اعلان سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول دوبارہ سخت کر دیا ہے اور اب یہ اسٹریٹجک سمندری راستہ اس کی مسلح افواج کی ''سخت نگرانی اور انتظام'' میں ہے۔
تہران نے امریکا پر الزام لگایا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
اس سے قبل جمعہ کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا تھا کہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلا رہے گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ جہازوں کی آمد و رفت ایران کی بندرگاہوں اور بحری امور کی تنظیم کے طے کردہ راستوں کے مطابق ہوگی۔
اس اعلان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خیرمقدم بھی کیا تھا۔یہ جنگ بندی ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کے لیے طے پائی تھی جو 7-8 اپریل کی رات سے نافذ العمل ہے، جبکہ لبنان میں بھی اسی دوران جنگ بندی کا آغاز ہوا جو 10 دن کے لیے ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی مدت میں توسیع کا فیصلہ حالات پر منحصر ہوگا، ممکن ہے کہ وہ اسے آگے نہ بڑھائیں، تاہم ''محاصرہ جاری رہے گا ''۔
-
اگر امریکی ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز بند کر دیں گے: باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب ...
مشرق وسطی -
آبنائے ہرمز کا کھلنا خوش آئند قدم قرار؛ یو این سکریٹری جنرل، برطانیہ اور فرانس کا خیرمقدم
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس نے ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کے کھولے ...
بين الاقوامى -
ایران کا ہرمز کو کھولنے کا اعلان، معاہدے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی: ٹرمپ
ایران افزدوہ یورینیم حوالے کرنے پر راضی ہوگیا، ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں: امریکی ...
مشرق وسطی