لبنان کے صدر جوزف عون کی اس تقریر کے بعد جو انہوں نے عارضی جنگ بندی کے بعد کی، ملک میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اپنی تقریر میں انہوں نے ریاست کی خودمختاری، جنگ اور امن کے فیصلے کا اختیار صرف سرکاری اداروں کے پاس ہونے اور لبنان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سفارتی و مذاکراتی راستے اپنانے پر زور دیا تھا۔
اس کے بعد ایوانِ صدر اورحزب اللہ کے درمیان تناؤ بڑھ گیا، خاص طور پر اس وقت جب حزب اللہ کے حامیوں اور بعض قریبی شخصیات نے صدر عون کے مؤقف پر شدید تنقید شروع کی۔
ان تنقیدوں میں ان کے حالیہ فیصلوں اور اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے امکان کے حوالے سے ان کی پالیسی کو ہدف بنایا گیا۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حزب اللہ کے اندر اس مؤقف پر واضح اختلاف پایا جاتا ہے اور اس نے لبنان کی داخلی سیاست کو ایک نئے اور زیادہ حساس مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
تصادم کا کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں
العربیہ ڈاٹ نیٹ /الحدث ڈاٹ نیٹ سے منسلک ذرائع کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے فی الحال صدرِ جمہوریہ کے ساتھ تصادم یا محاذ آرائی کا کوئی باضابطہ فیصلہ موجود نہیں ہے۔
ان ذرائع نے وضاحت کی کہ حالیہ عرصے میں سامنے آنے والے بیانات دراصل سیاسی ردِعمل ہیں، جن کا مقصد صدر جوزف عون کے مؤقف میں آنے والی تبدیلیوں اور ان کی نئی پالیسیوں پر جواب دینا ہے، جن کے بارے میں حزب اللہ کے مطابق لبنان کے لیے کوئی واضح یا عملی نتائج سامنے نہیں آئے۔
مزید بتایا گیا کہ صدرِ لبنان کے حالیہ بیانات، خصوصاً گزشتہ بدھ کے واقعات کے بعد ان کا براہِ راست مذاکرات کے معاملے پر طرزِ عمل اور حالیہ خطاب، حزب اللہ کے نزدیک اس بات کی علامت ہیں کہ وہ ایک ایسے سیاسی کیمپ کے قریب ہو رہے ہیں جومزاحمت کے مؤقف کی مخالفت کرتا ہے۔ تاہم پارٹی کے مطابق یہ محض سیاسی ردِعمل ہے نہ کہ تصادم یا ٹکراؤ کا باقاعدہ فیصلہ۔
ذرائع نے یہ بھی کہا کہ اس وقت صدر اور حزب اللہ کے درمیان رابطے کے چینلز تقریباً غیر فعال ہیں اور ماضی میں بھی یہ روابط مؤثر طور پر قائم نہیں رہے۔
اس لیے موجودہ صورتحال کو انتہائی نازک قرار دیا جا رہا ہے، جو اگر اسی طرح جاری رہی تو مزید بگاڑ کی طرف جا سکتی ہے۔
مزید خبردار کیا گیا کہ اگر ایسے سیاسی راستے اختیار کیے گئے جنہیں لبنانی آئین یا میثاقِ قومی کے اصولوں کے منافی سمجھا گیا، تو اس سے فاصلہ مزید بڑھ سکتا ہے اور ملک کو ایک ایسے حساس سیاسی مرحلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے اندرونی اثرات گہرے ہو سکتے ہیں۔
عون مذاکراتی راستے پر قائم
دوسری جانب ایوانِ صدر کے قریبی ذرائع نے ''العربیہ ڈاٹ نیٹ/الحدث ڈاٹ نیٹ'' کو بتایا ہے کہ صدر جوزف عون واشنگٹن اجلاس پر ہونے والی تنقیدوں سے زیادہ متاثر نہیں ہیں، جنہیں بعض حلقوں نے فضول آوازیں قرار دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق صدر عون اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ وہ اس سیاسی اور سفارتی مذاکراتی راستے کو آگے بڑھائیں گے جس پر انہوں نے اپنے گزشتہ روز کے خطاب میں زور دیا تھا۔
ادھر تحریک "امل" اور اس کے سربراہ و اسپیکر پارلیمان نبیہ بری کے مؤقف کے حوالے سے، تحریک امل کے سیاسی دفتر کے رکن حسن قبلان نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ/الحدث ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ صدرِ جمہوریہ کے بارے میں امل کا موقف آئینی اداروں کے احترام کے اصول پر مبنی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تحریک امل ان بیانات اور طرزِ عمل کو مسترد کرتی ہے جو صدر کے منصب کو نقصان پہنچائیں یا ملک کے اندرونی اختلافات کو ہوا دیں۔
عوامی شو بازیوں کو مسترد
حسن قبلان نے مزید وضاحت کی کہ تحریک امل عوامی دکھاوے اور اشتعال انگیز طریقوں کو مسترد کرتی ہے اور ایسے اقدامات کو بھی ناپسند کرتی ہے جو لبنان کے اندرونی ڈھانچے کو کمزور کرنے اور سیاسی اختلافات کو بڑھانے کے ذریعے بالواسطہ طور پر دشمن کے مفاد میں جاتے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ لبنان میں موجود کسی بھی سیاسی اختلاف کو آئینی اور سرکاری اداروں کے دائرے میں رہ کر حل کیا جانا چاہیے، چاہے وہ پارلیمان ہو، کابینہ ہو یا ذمہ دار شخصیات کے درمیان براہِ راست رابطہ۔ ان کے مطابق سیاسی بیانات یا میڈیا مہمات کے ذریعے کشیدگی بڑھانا مناسب نہیں۔
قبلان نے زور دیا کہ لبنان اس وقت ایک نہایت حساس مرحلے سے گزر رہا ہے، اس لیے داخلی سطح پر تحمل، مکالمے اور افہام و تفہیم کو ترجیح دینا ضروری ہے، نہ کہ ایسے بیانات جو صدرِ جمہوریہ کو نشانہ بنائیں یا معاشرتی تقسیم میں اضافہ کریں۔
اس پورے پس منظر میں جہاں حزب اللہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ صدر کے ساتھ براہِ راست تصادم کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، وہیں صدر جوزف عون پر تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اس صورتِ حال نے دونوں فریقوں کے تعلقات کو ایک نازک مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جو آنے والے وقت میں لبنان کی سیاسی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔
-
لبنان میں فرانسیسی فوجی کی ہلاکت ، ماکروں نے حزب اللہ کو ذمے دار ٹھہرا دیا
فرانس کا لبنانی حکام سے مطالبہ ہے کہ وہ مجرموں کو فوری طور پر گرفتار کریں اور اپنی ...
بين الاقوامى -
ہمارا ہدف حزب اللہ کو فوجی یا سیاسی ذرائع سے غیر مسلح کرنا ہے: کاتز
اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ "ہم نے لبنان کی سرحد پر 10 کلومیٹر گہرائی تک ایک ...
مشرق وسطی -
ایران کا لبنان میں جنگ بندی کا خیر مقدم ... امید ہے کہ حزب اللہ بہتر رویہ اپنائے گی : ٹرمپ
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران جنوبی لبنان سے اسرائیل کے مکمل انخلا کی ضرورت پر ...
مشرق وسطی