سعودی عرب، یورپی یونین اور ناروے کی صدارت میں دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے بین الاقوامی اتحاد کے نویں اجلاس کا انعقاد ہوا جس کا عنوان ’’ غزہ جنگ کے بعد ہم امن کی طرف کیسے بڑھیں؟ ‘‘ تھا۔
اس اجلاس میں 83 ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کی میزبانی یورپی یونین نے بیلجیئم کی وزارت خارجہ کے اشتراک سے برسلز شہر میں کی۔
سعودی وزارت خارجہ میں وزیر ڈاکٹر منال رضوان نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ جنگ میں موجودہ چیلنج اس نازک جنگ بندی کو امن کی طرف ایک ناقابل واپسی پیش رفت میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی اور سیاسی حل ناقابل تقسیم ہیں اور کسی معتبر سیاسی افق کے بغیر کوئی بھی استحکام عارضی اور غیر پائیدار ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 پر عملدرآمد، جامع منصوبہ اور پیس کونسل کی کوششوں کی حمایت جنگ بندی، انسانی امداد، گورننس، سلامتی اور تعمیر نو کے راستوں کو ایک مربوط فریم ورک کے اندر ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک حقیقی موقع فراہم کرتی ہے۔
استحکام خود مختاری کا متبادل نہیں
انہوں نے اجلاس کے دوران انسانی امداد کی مکمل اور بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ساتھ ہی ابتدائی بحالی کی کوششوں میں پیش رفت اور تعمیر نو کو اس طریقے سے کرنے کی اہمیت پر زور دیا جو دہرائے جانے کو روکے۔
انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے کی وحدت کو برقرار رکھنے کے دائرہ کار میں فلسطینی حکومت کے اصلاحاتی پروگرام کی مملکت کی طرف سے مکمل حمایت کا اعادہ کی تاکہ حکومت کی غزہ کی پٹی میں واپسی کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ استحکام خود مختاری کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
غیر مسلح کرنے کے معاملے سے نمٹنا
اجلاس میں مملکت سعودی عرب کی نمائندہ نے کہا کہ غیر مسلح کرنے کے معاملے کو قانونی حیثیت پر مبنی ایک وسیع تر سیاسی اور ادارہ جاتی فریم ورک کے اندر حل کیا جانا چاہیے جس کا حتمی اور واضح مقصد فلسطینی ریاست کا قیام ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ مغربی کنارے کی صورتحال ایک خطرناک کشیدگی کی طرف جارہی ہے جو دو ریاستی حل کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی شہریوں کا تحفظ استحکام حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش کا بنیادی عنصر ہے۔
سکیورٹی انتظامات کے لیے سعودی حمایت
اسی تناظر میں ڈاکٹر منال رضوان نے مملکت سعودی عرب کی جانب سے ان اقدامات کی حمایت کی تصدیق کی جو تحفظ، قانون کی حکمرانی اور فلسطینی اداروں کی صلاحیت سازی کو فروغ دیتے ہیں۔ ان اقدامات میں پولیس اور انصاف کے شعبوں کی حمایت بھی شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی سکیورٹی انتظامات بین الاقوامی قانون کے احترام اور قبضے کو مستحکم کرنے والے اقدامات کو مسترد کیے بغیر پائیدار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی استحکام فورس کا کردار وقت کے لحاظ سے محدود اور فلسطینی اداروں کا معاون ہونا چاہیے نہ کہ ان کا متبادل۔ ڈاکٹر منال رضوان نے کہا کہ علاقائی سلامتی کو فلسطینی سلامتی سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور پائیدار امن کے حصول کے لیے ایک جامع فریم ورک کی ضرورت ہے جو باہمی سکیورٹی خدشات کو دور کرے، خود مختاری کا احترام کرے اور کشیدگی کو روکے۔
اپنے خطاب کے آخر میں مملکت کی نمائندہ نے یہ بھی کہا کہ نیویارک اعلامیہ سکیورٹی انتظامات کو فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک معتبر سیاسی راستے سے جوڑنے کے لیے ایک اہم حوالہ ہے۔ انہوں نے کہا استحکام کی کوئی بھی کوشش 1967 کی حدود پر ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں نکلنی چاہیے جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔ انہوں نے عادلانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے اتحاد میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے مملکت کے عزم کا اعادہ کیا۔