اسرائیل کا ٹرمپ سے ایران پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی حکام نے امریکی انتظامیہ کو ایک پیغام بھیجا، جس میں انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ ایران کی بندرگاہوں کے محاصرے سے پیچھے نہ ہٹا جائے، یہ بات اسرائیلی میڈیا نے جمعہ کے روز نقل کی۔حکام نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایران پر امریکی دباؤ اور پابندیوں کو مزید سخت کیا جائے۔

واشنگٹن کے مطالبات پورے کرنے کی پیشکش

جمعہ کے روز اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران ایک ایسی پیشکش دینے کا ارادہ رکھتا ہے جس کا مقصد واشنگٹن کے مطالبات کو پورا کرنا ہے، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ مذاکرات پاکستان میں دوبارہ شروع ہوں گے۔

ٹرمپ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو ٹیلیفونک انٹرویو میں کہا: وہ ایک پیشکش دیں گے اور ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں ابھی تک اس پیشکش کی نوعیت کا علم نہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کس فریق کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تو انہوں نے کہا: میں یہ نہیں بتانا چاہتا، لیکن ہم ان لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو اس وقت ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے کسی نام کا ذکر کرنے سے گریز کیا۔

معاہدے تک محاصرہ جاری رہے گا

اس کے علاوہ انہوں نے تاکید کی کہ امریکی فوج ایران کی بندرگاہوں پر عائد محاصرہ اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ محاصرہ ختم کرنے کے لیے کیا شرائط ہوں گی تو انہوں نے کہا: مجھے اس سوال کا جواب بعد میں دینا ہوگا، پہلے دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا پیشکش کرتے ہیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکی صدر اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کو افزودہ یورینیم سے دستبردار ہونا ہوگا اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کی اجازت دینا ہوگی۔

13 اپریل

امریکہ نے ایران کے خلاف بحری محاصرہ 13 اپریل کو شروع کیا، جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہوگیا۔

دوسری جانب ایران نے اس محاصرے کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا، جو 8 اپریل کی صبح سے نافذ العمل ہوا تھا۔

تاہم امریکی انتظامیہ بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے محاصرہ ختم نہیں کیا جائے گا، ایسا معاہدہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا باعث بنے گا، جہاں گزشتہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے بحری آمد و رفت متاثر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں