تقریباً 10 برس قبل اعلان کے بعد سعودی وژن 2030 آج بھی گزشتہ برسوں کی کامیابیوں پر تعمیر کرتے ہوئے اپنی تیسری اور آخری مرحلے (2026 تا 2030) کے اہداف کے نفاذ کی جانب گامزن ہے۔
2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق کارکردگی کے اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ طویل المدتی اہداف کے حصول پر مسلسل توجہ برقرار ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ بدلتی ضروریات کے مطابق عملدرآمد کے طریقہ کار کو بھی ڈھالا جا رہا ہے تاکہ ترقی اور خوشحالی کا تسلسل قائم رہے۔
سالانہ رپورٹ کے مطابق 93 فیصد پروگرامز اور حکمت عملیوں کے کارکردگی اشاریے یا تو اپنے سالانہ اہداف حاصل کر چکے ہیں یا انہیں عبور کر گئے ہیں یا کم از کم 85 سے 99 فیصد تک ہدف کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ وژن 2030 کی 90 فیصد سے زائد منصوبہ جات مکمل ہو چکے ہیں یا درست سمت میں جاری ہیں۔
وژن کے آغاز سے اب تک تقریباً 935 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ 225 منصوبے درست پیش رفت کے ساتھ جاری ہیں۔ مجموعی طور پر 1290 سے زائد منصوبے فعال ہیں اور وژن اپنے دسویں سال میں بھی اپنی رفتار برقرار رکھتے ہوئے مزید ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
یہ وژن 25 اپریل 2016 کو سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایات پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیش کیا تھا۔ یہ ایک جامع قومی ترقیاتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد ثقافت، جدت اور معیشت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا، عالمی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنا اور شہریوں، مقیم افراد اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
وژن 2030 کو تین بڑے مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سے ہر مرحلہ پانچ سال پر مشتمل ہے۔
پہلا مرحلہ بنیادی اصلاحات اور تبدیلیوں کی بنیاد رکھنے پر مرکوز تھا، جس میں اقتصادی، مالی اور سماجی اصلاحات شامل تھیں۔
دوسرا مرحلہ ترجیحی شعبوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے پر مرکوز رہا، جبکہ تیسرا مرحلہ اہداف کے حصول کو مزید مضبوط اور لچکدار بنانے پر مبنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بے روزگاری کی شرح کم ہو کر 7اعشاریہ2 فیصد تک آ گئی ہے، جو 2016 کے اختتام پر 12اعشاریہ3 فیصد تھی۔ یہ بہتری معیشت کے مختلف شعبوں کی ترقی اور لیبر مارکیٹ میں اصلاحات کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جس سے روزگار کے مواقع بڑھے اور نجی شعبے کا کردار مضبوط ہوا۔
رہائش کے شعبے میں بھی اہداف سے بہتر کارکردگی سامنے آئی، جہاں شرح 66اعشاریہ24 فیصد تک پہنچ گئی جو مقررہ ہدف 65 فیصد سے زیادہ ہے۔
اسی طرح مالی معاونت حاصل کرنے والے افراد میں سے 33اعشاریہ4 فیصد کو باقاعدہ طور پر بااختیار بنایا گیا، جو مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔
کھیلوں کے شعبے میں بھی مثبت پیش رفت ہوئی، جہاں بالغ افراد میں جسمانی سرگرمیوں کی شرح 59 فیصد تک پہنچ گئی، جو 55 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہے۔
وژن 2030 کی نگرانی کے لیے ایک واضح پیمائشی نظام وضع کیا گیا ہے، جس میں تین سطحوں پر کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
پہلی دو سطحیں اسٹریٹجک اہداف کی پیش رفت کو جانچتی ہیں جبکہ تیسری سطح منصوبوں اور پروگرامز کے عملی نفاذ کا جائزہ لیتی ہے۔
صحت کے شعبے میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، جہاں خدمات کے معیار کا اشاریہ 70اعشاریہ4 فیصد تک پہنچ گیا، جو مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔ یہ اشاریہ 2022 سے نافذ کیا گیا تھا تاکہ ملک بھر میں صحت کی سہولیات کے معیار کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔
اسی طرح اوسط عمر بڑھ کر 79اعشاریہ7 سال تک پہنچ گئی، جو 2029 کے ہدف سے بھی زیادہ ہے۔
صحت کے شعبے میں اصلاحات کے باعث نظام کو روایتی ماڈل سے جدید صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں تبدیل کیا گیا، جس سے خدمات کی دستیابی، معیار اور استعداد میں اضافہ ہوا۔
گزشتہ دس برسوں میں وژن 2030 ایک مضبوط بنیاد پر استوار ہوا ہے، اب اپنے تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ادارہ جاتی پختگی کے ساتھ اسٹریٹجک اور مالی منصوبہ بندی میں ہم آہنگی پیدا کی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ جاری منصوبوں کی مسلسل نگرانی اور ضرورت کے مطابق اصلاحات بھی کی جا رہی ہیں تاکہ ترقی کا سفر مؤثر انداز میں جاری رہے اور قومی مفاد کے مطابق نتائج حاصل کیے جا سکیں۔