غزہ جانے والے بحری قافلے کے دو غیر ملکی کارکنان اتوار کو ایک اسرائیلی عدالت میں پیش ہوئے جنہیں تفتیش کے لیے اسرائیل لایا گیا ہے، ان کا دفاع کرنے والے انسانی حقوق کے ایک گروپ نے اے ایف پی کو بتایا۔
فرانس، سپین اور اٹلی سے 50 سے زائد جہازوں پر مشتمل فلوٹیلا غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے اور تباہ شدہ فلسطینی علاقے تک رسد پہنچانے کے لیے عازمِ سفر تھا۔
جمعرات کو علی الصبح یونان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی افواج نے انہیں روک لیا اور اسرائیل نے کہا کہ اس نے تقریباً 175 کارکنان کو فلوٹیلا سے اتار دیا جن میں سے دو کو تفتیش کے لیے اسرائیل لے جایا گیا ہے۔
ہسپانوی شہری سیف ابو کیشک اور برازیلین تھیاگو اویلا اتوار کو اشکیلون کی ایک عدالت میں پیش ہوئے۔
حقوق گروپ عدلہ میں بین الاقوامی ایڈوکیسی کوآرڈینیٹر مریم اعظم نے اے ایف پی کو بتایا، "ریاست نے ان کی حراست میں چار دن کی توسیع کرنے کو کہا ہے۔"
ہفتے کے روز عدلہ نے کہا کہ اس کے وکلاء نے دو زیرِ حراست کارکنان سے اشکیلون کی شکما جیل میں ملاقات کی تھی۔
اویلا نے وکلاء کو بتایا کہ جب جہازوں کو روکا گیا تو انہیں "انتہائی بربریت کا نشانہ بنایا گیا" اور مزید بتایا کہ "انہیں فرش پر منہ کے بل گھسیٹا گیا اور اتنی شدید مارا پیٹا گیا کہ وہ دو بار بے ہوش ہو گئے۔"
اسرائیل پہنچنے کے بعد سے عدلہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ انہیں "تنہائی میں رکھا گیا اور آنکھوں پر پٹی باندھی گئی۔"
گروپ نے بتایا کہ ابو کیشک کے بھی "ہاتھ بندھے ہوئے اور آنکھوں پر پٹی بندھی تھی اور جہازوں کی ضبطی کے وقت سے لے کر اسرائیل پہنچنے تک انہیں فرش پر جبراً اوندھے منہ لیٹنا پڑا"۔
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ دونوں کارکنان ایک ایسی تنظیم سے وابستہ ہیں جس پر امریکی وزارتِ خزانہ نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔
اس گروپ - پاپولر کانفرنس فار پالیسٹینیئز ابروڈ (پی سی پی اے) - پر واشنگٹن نے مزاحمتی گروپ حماس کی طرف سے "خفیہ طور پر کام" کرنے کا الزام لگایا ہے۔
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ابو کیشک پی سی پی اے کے ایک سرکردہ رکن تھے اور اویلا بھی تنظیم سے منسلک تھے اور ان پر "غیر قانونی سرگرمیوں کا شبہ" تھے۔
سپین نے اویلا کی حراست کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف اسرائیلی الزام مسترد کر دیا ہے۔
تازہ ترین فلوٹیلا کے منتظمین نے کہا کہ غزہ سے 1,000 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر اسرائیل نے انہیں روک لیا اور ان کے آلات توڑ ڈالے جس سے وہ "سمندر میں موت کے ایک دانستہ اور سوچے سمجھے شکنجے" میں پھنس کر رہ گئے۔
اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق روکے گئے درجنوں کارکنان جمعہ کو یونانی جزیرے کریٹ پر اتر گئے۔
گذشتہ سال کے موسم گرما اور خزاں میں براستہ بحیرۂ روم غزہ کے لیے گلوبل صمود فلوٹیلا کے پہلے سفر نے تمام دنیا کی توجہ حاصل کی جسے اکتوبر کے اوائل میں اسرائیلی افواج نے مصر اور غزہ کے ساحلوں کے نزدیک روک لیا تھا۔
عملے کے ارکان بشمول سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ کو اسرائیلی افواج نے گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا تھا۔