امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے 6 چھوٹی ایرانی کشتیاں تباہ کر دیں اور تہران کی جانب سے داغے گئے کروز میزائلوں اور ڈرونز کو روک لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ایک امریکی آپریشن کے فریم ورک کے تحت کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق بریڈ کوپر نے صحافیوں کو بتایا کہ ایرانی سپاہ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی ) نے ان بحری جہازوں پر متعدد کروز میزائل، ڈرونز داغے اور چھوٹی کشتییوں سے حملہ کیا جن کی ہم حفاظت کر رہے ہیں۔ ہم نے انتہائی درستی کے ساتھ گولہ بارود کا استعمال کرتے ہوئے ان خطرات میں سے ہر ایک کا مقابلہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایرانی افواج کو سخت مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس آپریشن کے دوران امریکی فوجی اثاثوں سے دور رہیں۔ اس آپریشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے بریڈ کوپر نے کہا اس میں 15 ہزار امریکی فوجی، امریکی بحریہ کے تباہ کن جہاز اور زمین و سمندر سے اڑنے والے 100 سے زائد طیارے اور زیرِ آب یونٹ حصہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موقع پر موجود امریکی کمانڈروں کے پاس اپنے یونٹوں کے دفاع اور تجارتی جہازوں کے دفاع کے لیے تمام ضروری اختیارات موجود ہیں۔
بحری جہازوں کی حفاظت؟
اس سوال کے جواب میں کہ کیا امریکی فوج جہازوں کی حفاظت (ایسکارٹ) کر رہی ہے، بریڈ کوپر نے واضح کیا کہ کوئی روایتی ایسکارٹ آپریشن نہیں ہو رہا بلکہ ایک وسیع کثیر جہتی دفاعی انتظام ہے جس میں ایرانی خطرات سے نمٹنے کے لیے بحری جہاز، ہیلی کاپٹر، طیارے اور الیکٹرانک جنگی ذرائع شریک ہیں۔ مزید برآں انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی ناکہ بندی ، جو بحری جہازوں کو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے سے روک رہی ہے، اب بھی نافذ العمل ہے اور اس کے نتائج توقعات سے بڑھ کر رہے ہیں۔
U.S. Navy MH-60 Sea Hawk helicopters are supporting Project Freedom in and near the Strait of Hormuz. Earlier today, Sea Hawk and U.S. Army AH-64 Apache helicopters were used to eliminate Iranian small boats threatening commercial shipping. pic.twitter.com/pt9eTWkhxZ
— U.S. Central Command (@CENTCOM) May 4, 2026
دو بحری جہاز گزرگاہ عبور کر گئے
پیر کے روز اس سے قبل سینٹ کام نے اعلان کیا تھا کہ امریکی پرچم والے دو تجارتی جہاز کامیابی سے گزرگاہ عبور کر چکے ہیں۔ سینٹ کام نے اپنے "ایکس" اکاؤنٹ پر ایک بیان میں واضح کیا کہ امریکی افواج اس اہم تزویراتی آبنائے میں تجارتی جہاز رانی کی بحالی کی کوششوں میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گائیڈڈ میزائل شکن جہاز آبنائے ہرمز کے آپریشن کی حمایت کے لیے خلیج عرب میں موجود ہیں۔ اس آپریشن کا اعلان اتوار کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "پروجیکٹ فریڈم" کے نام سے کیا تھا۔
دوسری طرف ایرانی آئی آر جی سی نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کے گزرنے کی تردید کردی۔ آئی آر جی سی نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کوئی تجارتی جہاز یا تیل بردار ٹینکر آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا۔ اس حوالے سے امریکی حکام کے بیانات بے بنیاد اور مکمل طور پر من گھڑت ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب ایرانی مسلح افواج نے پیر کے روز ہی دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے امریکی بحری یونٹوں کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی افواج نے ایک امریکی فوجی فریگیٹ کی طرف دو میزائل داغے اور اس عمل سے اسے واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ یہ آئی آر جی سی کے قریب سمجھے جانے والے خبر رساں ادارے 'فارس' نے رپورٹ کیا۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس معاملے کی مکمل تردید کی ہے۔
پروجیکٹ فریڈم
یاد رہے ٹرمپ نے اتوار کو "پروجیکٹ فریڈم" آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ یہ منصوبہ اہم آبی گزرگاہ میں پھنسے ہوئے جہازوں کو وہاں سے نکلنے میں مدد دے گا تاکہ وہ اپنی سرگرمیاں آزادی اور مہارت کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔ لیکن امریکی صدر نے مشن کے طریقہ کار کے بارے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں۔
فروری کے آخر سے ایرانی افواج نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس بندش سے تیل، گیس اور کھاد کی بنیادی سپلائی میں خلل پڑ گیا ہے۔ امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔