آبنائے ہرمز کے حالات توانائی اور خوراک کی منڈیوں پر اثر انداز ہو رہے: سعودی مندوب
آبنائے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا انسانی ضرورت ہے: ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل
اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ہونے والی پیش رفت توانائی اور خوراک کی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے ایک اہم شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ہرمز میں سلامتی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تشویش کا معاملہ ہے۔ سعودی عہدیدار نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی خلیجی قرارداد کے مسودے سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ آبنائے میں حالیہ پیش رفت نے تناؤ، خطرات اور انسانی، معاشی و سیکیورٹی اثرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ سعودی عہدیدار نے کہا کہ یہ صورتحال عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے، ساتھ ہی بنیادی اشیاء بشمول غذائی مواد، طبی آلات اور انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ اس صورت حال سے ان کمزور معیشت والے ممالک پر سنگین نتائج مزید بڑھ جاتے ہیں جو توانائی کے ذرائع کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔
اسی تناظر میں ڈاکٹر عبد العزیز الواصل نے زور دیا کہ ان اثرات کا مجموعہ مزید کشیدگی کو روکنے اور اس اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے استحکام اور سلامتی کے تحفظ کی شدید ضرورتکو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آبنائے میں جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت دینا ایک انسانی ضرورت ہے۔
سعودی عرب نے جمعرات کو آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو معطل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے اور اس کی مذمت کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور مارکیٹوں کے استحکام اور سپلائی کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کا کہا ہے۔ سعودی عرب نے لاجسٹک روابط کو مضبوط بنا کر اور نقل و حمل، سٹوریج اور سپلائی چینز کی لچک کے شعبوں میں تعاون کی حمایت کے ذریعے علاقائی اور بین الاقوامی بہاؤ کی روانی برقرار رکھنے میں اپنا کردار جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔