امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن تنازع کے خاتمے کے لیے معاہدے کی امریکی تجاویز پر جمعے کو ایران کی جانب سے جواب کی توقع کر رہا ہے۔
روبیو نے دورۂ روم کے دوران صحافیوں کو بتایا، "ہم آج کسی وقت ان کی طرف سے جواب ملنے کی توقع کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ ایک سنجیدہ پیشکش ہے، مجھے واقعی امید ہے۔"
انہوں نے کہا، "امید یہ ہے کہ یہ چیز ہمیں مذاکرات کے سنجیدہ عمل تک لا سکتی ہے۔"
تہران نے اہم آبی گذرگاہ سے نقل و حمل کی منظوری دینے کے لیے ایک اتھارٹی تشکیل دی ہے، اس بارے میں اطلاع کے بعد انہوں نے آبنائے ہرمز کنٹرول کرنے کے لیے ایران کی "ناقابلِ قبول" کوششوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
روبیو نے نامہ نگاروں کو بتایا، "ایران اب دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اس کا مالک ہے، اسے کنٹرول کرنے کا حقدار ہے لیکن یہ بین الاقوامی آبی گذرگاہ ہے تو یہ ایک ناقابلِ قبول بات ہے جسے وہ معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔"
اس ہفتے کے شروع میں عالمی منڈیوں میں اس امید پر یک دم تیزی آ گئی کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن عمل سے جنگ بندی میں توسیع ہو گی اور تنازع کے خاتمے کے لیے معاہدہ طے پا جائے گا۔
لیکن جمعے کو ہرمز میں ایرانی اور امریکی افواج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد سٹاک مارکیٹ دوبارہ ڈوب گئی جس سے خدشہ پیدا ہو گیا کہ نئی لڑائی اسے دوبارہ کھولنے میں تاخیر یا پٹڑی سے اترنے کا سبب بن سکتی ہے۔
روبیو نے کہا کہ امریکہ کو اپنے جنگی جہازوں پر ایرانی فائرنگ کا جواب دینے پر مجبور کیا گیا۔
انہوں نے جمعہ کو کہا "ہم نے فائر نہیں کیا بلکہ انہوں نے ہم پر کیا"۔
ایران کی مرکزی فوجی کمان نے کہا کہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب امریکی جہازوں نے آبنائے کی طرف جانے والے ایک ایرانی سویلین ٹینکر کو نشانہ بنایا۔ ایران نے دشمن پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔