ایران جنگ

سیٹلائٹ تصاویر: نطنز تنصیب کے جنوب میں مشکوک نقل و حرکت

22 اپریل کو زیر زمین کمپلیکس کے مشرقی سرنگوں کے دو داخلی راستوں کو مٹی کے ذریعے بند کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز پر ایرانی جواب کے انتظار کے دوران ایران کے اوپر لی گئی نئی سیٹلائٹ تصاویر نے نطنز ایٹمی تنصیب کے جنوب میں پیکاکس پہاڑ کے ایک خفیہ مقام کے قریب مشکوک نقل و حرکت کا انکشاف کردیا۔ یہ بات عبرانی اخبار "یدیعوت احرونوت" نے رپورٹ کی ہے۔ ایئربس ڈیفنس اینڈ سپیس کمپنی کی تصاویر ، جن کا بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ برائے سائنس اور سیکیورٹی نے تجزیہ کیا ہے، کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ 22 اپریل کو زیر زمین کمپلیکس کے مشرقی سرنگوں کے دو داخلی راستوں کو مخصوص مٹی کے ذریعے بند کر دیا گیا ۔ اس کا مقصد گاڑیوں کو وہاں پہنچنے سے روکنا تھا۔

جبکہ یکم اپریل کو سرنگوں کے داخلے کھلے تھے اور بند نہیں تھے۔ فردو اور اصفہان میں سرنگوں کے داخلی راستوں کے برعکس تصاویر کا تجزیہ بتاتا ہے کہ سرنگوں کو بند کرنے کے لیے استعمال کیا گیا مواد ان کے داخلی راستوں کو مکمل طور پر نہیں چھپاتا۔

زیر زمین سرنگوں کا کمپلیکس

اخبار کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ یہ مواد گاڑیوں کے زیر زمین کمپلیکس میں تیزی سے داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کافی ہے جس کے لیے مٹی ہٹانے اور تنصیب تک رسائی کا راستہ کھولنے کے لیے بھاری انجینئرنگ آلات کے استعمال کی ضرورت ہوگی۔ انسٹی ٹیوٹ نے کہا ہے کہ اب تک ہمیں مغربی سرنگوں کے دو داخلی راستوں پر اسی طرح کی بندش کے ثبوت نظر نہیں آئے۔ یہ سرگرمی بڑے سوالات کو جنم دیتی ہے، کیونکہ یہ زمین کی گہرائی میں دفن ایک سرنگ کمپلیکس ہے جسے اعلیٰ قیمت کے آلات یا مواد کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس سال کے شروع میں اس مقام پر سرنگوں کے داخلی راستوں کے ساتھ نمٹنے کے طریقے کی نگرانی کی گئی تھی جس سے ان اندازوں کو تقویت ملی کہ ایران اس خفیہ تنصیب کے اندر حساس اثاثوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

کسی نتیجے پر نہیں پہنچے

یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں ہے جب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا کہ تہران دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے حالیہ امریکی تجویز کے بارے میں ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے امریکہ کو کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے کے امکان کی بارہا تشہیر کی ہے، گزشتہ بدھ کی شام پرامید نظر آئے ۔ انہوں نے اوول آفس میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بہت اچھی بات چیت کی ہے، اور یہ بہت ممکن ہے کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچ جائیں۔ انہوں نے بعد میں یہ بھی کہا کہ معاملہ جلد ختم ہو جائے گا۔

دوسری طرف ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف ان رپورٹس کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار نظر آئے جن میں اشارہ کیا گیا تھا کہ دونوں فریق معاہدے کے قریب ہیں۔ انہوں نے "ایکس" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایسی رپورٹس امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے کھولنے میں ناکامی کے بعد محض گمراہ کن پروپیگنڈا ہیں۔

واضح رہے امریکی اور ایرانی فریقین نے اپریل کے اوائل میں اسلام آباد میں براہ راست طویل مذاکرات کا پہلا دور منعقد کیا تھا تاہم اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا ۔ اس کے بعد ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کے بحری ناکہ بندی کرلی ہے۔ دریں اثنا تہران نے اہم آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں