ایک با خبر سعودی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ مملکت نے جارحانہ فوجی کارروائیوں کی حمایت کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔ یہ موقف ایران اور امریکہ کے درمیان فائرنگ کے حالیہ تبادلے کے بعد سامنے آیا ہے، جو 8 اپریل سے نافذ العمل جنگ بندی کی سب سے سنگین خلاف ورزی ہے۔
سعودی ذریعے نے آج جمعے کو العربیہ/الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاض کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے اور امریکہ و ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
مزید برآں ذریعے کا کہنا تھا کہ "کچھ فریق مشکوک وجوہات کی بنا پر سعودی عرب کے موقف کے بارے میں ایک گمراہ کن تصویر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ ایرانی افواج نے تین امریکی جنگی جہازوں پر فائرنگ کی ہے۔
دوسری جانب ایرانی افواج نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک ایرانی تیل بردار جہاز اور ایک دوسرے جہاز کو نشانہ بنایا۔ نیز آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم کے شہری علاقوں سمیت بندر خمیر اور سیریک پر فضائی حملے کیے ہیں۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ گذشتہ روز کی لڑائی کے باوجود تہران کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اب بھی ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔"
واضح رہے کہ ان حملوں سے قبل امریکہ نے ایک ابتدائی تجویز پیش کی تھی جس کا مقصد تنازع کا باقاعدہ خاتمہ ہے۔ روئٹرز کے مطابق اس تجویز کے پہلے مرحلے میں ایرانی جوہری پروگرام کی معطلی جیسے اہم امریکی مطالبات کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ انہیں بعد کے مذاکرات کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ تہران نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اس نے ابھی تک اس مجوزہ منصوبے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور وہ اس کا مطالعہ کر رہا ہے۔