حزب اللہ مالی نیٹ ورک دوبارہ سرگرم، لبنان میں تحقیقات تیز ہونے کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اسرائیل کی جانب سے حالیہ جنگ میں اپنے شاخوں پر منظم حملوں میں تیزی کے بعد حزب اللہ کے مالی بازو سمجھی جانے والی تنظیم '' القرض الحسن'' نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ /الحدث ڈاٹ نیٹ کی معلومات کے مطابق ''القرض الحسن'' نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے حارۃ حریک میں اپنی شاخ دوبارہ کھول دی ہے۔ یہ وہ واحد شاخ تھی، جسے حالیہ جنگ میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے نشانہ نہیں بنایا تھا۔

بعض مبصرین کے مطابق اس اقدام سے وہاں جانے والوں اور آس پاس موجود افراد کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ جگہ اب اسرائیل کے ممکنہ اہداف میں شامل سمجھی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے حزب اللہ کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے دوران اس تنظیم کی 30 شاخوں کو نشانہ بنایا تھا۔

حکومتی سطح پر بھی اس معاملے پر غور جاری

العربیہ ڈاٹ نیٹ/الحدث ڈاٹ نیٹ کی خصوصی معلومات کے مطابق لبنان کے مرکزی بینک کے گورنر کریم سعید نے گزشتہ ہفتے صدارتی محل میں ہونے والی کابینہ اجلاس کے دوران ''القرض الحسن'' کے موضوع کو اٹھایا۔

تاہم اس وقت حکومت کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یہ معاملہ چند روز قبل سرائے حکومت میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف (FATF) کے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا۔

مطلع ذرائع کے مطابق اگرچہ تنظیمیں وزارت داخلہ سے باقاعدہ اجازت (علم و خبر) حاصل کرتی ہیں، لیکن ''القرض الحسن'' کے مالی نوعیت کے کام کی وجہ سے وزارت داخلہ کو اب تک مرکزی بینک یا کسی متعلقہ عدالتی و مالی ادارے کی جانب سے کوئی باضابطہ دستاویز موصول نہیں ہوئی جس کی بنیاد پر کارروائی کی جا سکے۔

مزید بتایا گیا کہ 1987 میں وزارت داخلہ سے اجازت حاصل کرنے کے لیے ''القرض الحسن'' کے جو داخلی قواعد پیش کیے گئے تھے، ان کے تحت اسے بغیر سود قرض دینے کی اجازت حاصل ہے۔

دوسری جانب وزارت داخلہ کے سیاسی امور اور مہاجرین سے متعلق ڈائریکٹوریٹ نے بھی اس تنظیم کو سال 2026 کے لیے مطلوبہ سالانہ تصدیق نامہ جاری نہیں کیا، جو اس کے قانونی اور انتظامی طور پر درست ہونے کی توثیق کرتا ہے۔

عدالتی کارروائی کا آغاز

اس حوالے سے العربیہ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو معلوم ہوا ہے کہ FATF کمیٹی کے حالیہ اجلاس کے بعد ممکن ہے کہ متعلقہ عدالتی یا مالی ادارے "القرض الحسن" کی سرگرمیوں کی مزید چھان بین کے لیے کارروائی شروع کریں۔

تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں مناسب اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ "علم و خبر" واپس لینے کا حتمی فیصلہ کابینہ کرے گی، جو وزارت داخلہ کی سفارش پر کیا جائے گا۔

غیر قانونی ادارہ

لبنان کے مرکزی بینک سے وابستہ ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ/الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ "القرض الحسن" کے حوالے سے ان کے اختیارات صرف ان سابقہ ہدایات تک محدود ہیں جو انہوں نے کمرشل بینکوں کو جاری کی تھیں کہ وہ اس تنظیم کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہ کریں، کیونکہ یہ ایک غیر قانونی ادارہ ہے۔

ذرائع کے مطابق مرکزی بینک اپنی قانونی حدود میں رہتے ہوئے ہی ہدایات جاری کر سکتا ہے، جبکہ اس تنظیم کا لائسنس منسوخ کرنا وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے۔

لائسنس منسوخ ہونے سے اس کی سرگرمی نہیں رکتی

وکیل مجد حرب جنہوں نے پہلے "القرض الحسن" کے خلاف شکایت درج کروائی تھی، نے کہا ہے کہ اس تنظیم کا دوبارہ کام شروع کرنا ریاست کی کمزوری اور عدلیہ کی اپنے فرائض میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ/الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "علم و خبر" واپس لینے کا اثر محدود ہے، جبکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ مالیاتی پبلک پراسیکیوشن اور مرکزی بینک مل کر اس کے مالی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کارروائی کریں۔

حرب کے مطابق "القرض الحسن" کا پھیلاؤ لبنان کی مالی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے، کیونکہ یہ ایک غیر قانونی ادارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کی نرمی، عدلیہ کی کوتاہی اور حزب اللہ کے اثر و رسوخ کے خوف نے ملک کو اس صورتحال تک پہنچا دیا ہے۔

خصوصی طریقہ کار

اس کے برعکس، حزب اللہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ تنظیم نے جنگ کے دوران بھی اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر بند نہیں کیں اور اب ایک خاص طریقۂ کار (آلَیَہ) متعارف کرایا گیا ہے، جو صارفین کے ساتھ براہِ راست تعلق رکھتا ہے، اس کا کسی مخصوص برانچ سے کوئی تعلق نہیں۔

ذرائع کے مطابق موجودہ حالات میں اس ادارے کا کام جاری رکھنا ضروری ہے کیونکہ لوگوں کو مالی مدد کی شدید ضرورت ہے۔

متنازع موضوع

یہ معاملہ ہمیشہ سے سیاسی حلقوں میں شدید بحث اور اختلاف کا موضوع رہا ہے۔ اس وقت لبنان جیسا کہ وزیرِاعظم نواف سلام نے کہا ہے، اس سمت میں جا رہا ہے کہ ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر دوبارہ غور اور اسے مزید بہتر بنایا جائے، خاص طور پر گزشتہ مہینوں میں پیش آنے والی صورتحال کے تناظر میں (جب حزب اللہ نے ایرانی رہنما کے قتل کے جواب میں لبنانی محاذ کھولا تھا)۔

واضح رہے کہ2007 سے امریکہ نے "القرض الحسن" پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جو اسے حزب اللہ کی مالی سرگرمیوں کے لیے ایک پردہ قرار دیتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size