ایران کی امریکہ سے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجویز "جائز" اور "فراخدلانہ" تھی اور امریکہ غیر معقول اور یک طرفہ مطالبات برقرار رکھے ہوئے ہے، وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا ہے۔
بقائی نے کہا، "ہمارا مطالبہ جائز ہے: جنگ کے خاتمے، (امریکی) ناکہ بندی اور بحری قزاقی کو ختم کرنے اور ایرانی اثاثہ جات جاری کرنے کا مطالبہ جو امریکی دباؤ کی وجہ سے بینکوں میں غیر منصفانہ طور پر منجمد کیے گئے ہیں۔"
نیز کہا، "آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ اور خطے اور لبنان میں سلامتی کا قیام ایران کے دیگر مطالبات تھے جنہیں علاقائی سلامتی کے لیے فراخدلانہ اور ذمہ دارانہ پیشکش سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کے مطالبات میں ’خطے میں جنگ کا خاتمہ، امریکی نیوی کی ناکہ بندی کے خاتمے اور ایرانی عوام کے اثاثوں جو کئی سالوں سے غیرملکی بینکوں میں غیرمنصفانہ انداز میں منجمد ہیں کی بحالی شامل ہے۔‘
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی ثالث کے ذریعے ملنے والی تازہ ترین ایرانی تجاویز کو ’بالکل ناقابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں کہا تھا کہ ’میں نے ایران کے نام نہاد قیادت کی جانب سے ملنے والی تجاویز کو پڑھا ہے۔ یہ بالکل ناقابل قبول ہیں۔ مجھے یہ پسند نہیں۔‘
ایران نے اتوار کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کی تازہ ترین تجویز کا جواب بھیجا تھا جس کا مقصد ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں ک بعد شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنا تھا۔
لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے سوشل میڈیا پر فوری طور پر ’بالکل ناقابلِ قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔