آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے کے بعد، ایران اب آبنائے ہرمز کے نیچے بچھے سمندری انٹرنیٹ کیبلز کے استعمال کے بدلے دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر فیس عائد کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے، جو یورپ، ایشیا اور خلیج کے درمیان انٹرنیٹ ڈیٹا اور مالیاتی لین دین کی بہت بڑی مقدار منتقل کرتے ہیں۔
ریاست سے وابستہ ایرانی میڈیا نے مبہم انداز میں اشارہ کیا ہے کہ اگر کمپنیوں نے ادائیگی نہ کی تو ڈیٹا کی نقل و حرکت میں خلل ڈالا جا سکتا ہے۔ تہران میں قانون سازوں نے گذشتہ ہفتے ایک ایسے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا جو ان کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے جو عرب ممالک کو یورپ اور ایشیا سے جوڑتی ہیں۔ پاسداران انقلاب سے وابستہ میڈیا نے رپورٹ کیا کہ آبنائے سے آمدنی حاصل کرنے کے تہران کے منصوبے کے تحت گوگل، مائیکروسافٹ، میٹا اور ایمازون جیسی کمپنیوں کے لیے ایرانی قانون کی تعمیل لازمی ہوگی، جبکہ سمندری کیبلز کی کمپنیوں کو گزرنے کے لیے لائسنس فیس ادا کرنی ہو گی اور مرمت و دیکھ بھال کے حقوق خصوصی طور پر ایرانی کمپنیوں کو دیے جائیں گے۔
We will impose fees on internet cables.
— العميد إبراهيم ذو الفقاري (@Ibrahim_alFiqar) May 9, 2026
ایرانی فوجی ترجمان ابراہیم ذو الفقاری نے بھی گذشتہ ہفتے "ایکس" پلیٹ فارم پر کہا تھا "ہم انٹرنیٹ کیبلز پر فیس عائد کریں گے"۔
واضح رہے کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا یہ کیبلز ایرانی حدود سے گزرتی ہیں یا نہیں۔
سی این این نیٹ ورک کے مطابق یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ایرانی حکام ان بڑی کمپنیوں کو تعمیل پر کیسے مجبور کر سکتے ہیں، کیونکہ سخت امریکی پابندیوں کی وجہ سے انہیں ایران کو ادائیگیاں کرنے سے روکا گیا ہے۔ اس لیے یہ کمپنیاں ایرانی بیان کو محض طاقت کا مظاہرہ سمجھ سکتی ہیں نہ کہ کوئی عملی پالیسی۔
بلومبرگ اکنامکس میں مشرق وسطیٰ کی سربراہ دینا اسفندیاری کا ماننا ہے کہ ایران کی دھمکیاں آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ دکھانے اور حکومت کی بقا کو یقینی بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جو اس جنگ میں اس کا بنیادی ہدف ہے۔ انہوں نے کہا "مقصد عالمی معیشت پر اتنی بھاری قیمت عائد کرنا ہے کہ کوئی دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرے"۔
محقق مصطفیٰ احمد نے وضاحت کی کہ "بین الاقوامی آپریٹرز نے طویل عرصے سے ایرانی پانیوں سے پرہیز کیا ہے اور زیادہ تر کیبلز کو آبنائے کے عمانی کنارے پر ایک تنگ پٹی میں مرکوز کیا ہے"۔
اپنی طرف سے ایک کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کیبلز 2025 تک دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی بین الاقوامی گنجائش کا 1 فی صد سے بھی کم ہیں۔
یاد رہے کہ کیبلز کی جنگ نئی نہیں ہے، کیونکہ سمندری کیبلز کو نقصان پہنچانے کی تاریخ تقریباً دو صدی پرانی ہے، جہاں پہلی جنگ عظیم کے آغاز میں برطانیہ نے جرمنی کو اس کی افواج سے الگ تھلگ کرنے کے لیے اس کے کیبلز کاٹ دیے تھے۔