قطر نے منگل کے روز کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے ہونے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مذاکرات کے عمل کو موقع دینے کے لیے طے شدہ حملے ملتوی کر دیے جس کے ایک دن بعد یہ بیان سامنے آیا ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، "ہم پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حامی ہیں جس نے فریقین کو مجتمع کرنے اور مسئلے کا حل تلاش کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے لیے مزید وقت درکار ہے"۔
ٹرمپ نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کی اور یہ واضح کیا تھا کہ وہ ایسی جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں جو سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہوئی ہو۔ جب ایران نے ان کے معاہدے کا خاکہ مسترد کر دیا تو انہوں نے پیر کے روز کہا کہ وہ اگلے دن ایک نئے فوجی حملے کے لیے تیار ہیں۔
لیکن اُسی روز بعد میں ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے انہیں مذاکرات کو ایک موقع دینے کا کہا جس کے بعد انہوں نے حملے کا ارادہ ترک کر دیا۔
الانصاری نے کہا، "ہم خطے کے لوگوں کو بنیادی طور پر یہاں کسی بھی طرح کی کشیدگی کے اصل نقصان سے بچانا چاہتے ہیں۔"
انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ قطر معاہدے کے بارے میں پرامید ہے یا نہیں اور ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ پر مزید تبصرہ نہیں کیا۔
-
ایران کی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ، میزائل تنصیبات بحال: نیویارک ٹائمز
نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے درجنوں میزائل ...
بين الاقوامى -
ایران جنگ کی وجہ سے تمام دنیا میں ملازمتوں اور تنخواہوں پر منفی اثرات
جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی تازہ ترین تجاویز امریکہ کو ارسال
بين الاقوامى -
ایران نے واشنگٹن کو موصول ہونے والی نئی تجویز کی شقوں کا اعلان کر دیا
تجویز میں پابندیوں کا خاتمہ اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل ہے
بين الاقوامى