یورپی یونین کی پابندیوں میں نرمی، شام کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے یورپی یونین کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے ،جس کے تحت بعض شامی سرکاری اداروں پر عائد پابندیاں ختم کی گئی ہیں، جن میں وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ بھی شامل ہیں۔

انہوں نے اس اقدام کو دمشق اور برسلز کے درمیان مستقبل میں تعاون کے امکانات کو بہتر بنانے کی جانب ایک مثبت اشارہ قرار دیا۔

شیبانی نے ''ایکس'' پر اپنے بیان میں یورپی یونین کے اس فیصلے کو بھی سراہا، جس میں سابق حکومت کی شخصیات اور شامی عوام کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر پر پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ ایسے تعاون کے خواہاں ہیں، جو شامی عوام کے مفاد میں ہو اور باہمی احترام پر مبنی ہو۔

یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا ہے، جب یورپی یونین نے حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں شام کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیتے ہوئے بعض اداروں پر عائد پابندیوں میں جزوی نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔

محتاط مگر کھلا رویہ

یورپی اقدام کو ''محتاط مگر کھلے رویے'' کی پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے تحت شام کی نئی قیادت کے ساتھ محدود رابطے رکھے جا رہے ہیں، جبکہ سابقہ حکومت سے وابستہ شخصیات اور جنگ کے دوران مبینہ خلاف ورزیوں میں ملوث افراد پر پابندیاں برقرار ہیں۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد مغربی اور علاقائی ممالک نے دمشق کے ساتھ اپنے تعلقات پر ازسرِ نو غور شروع کیا ہے، جس میں بنیادی توجہ استحکام، تعمیرِ نو اور مہاجرین کی واپسی جیسے مسائل پر مرکوز ہے۔

دوسری جانب شامی حکومت بین الاقوامی سطح پر دوبارہ فعال ہونے اور طویل عرصے سے جاری پابندیوں اور تنہائی کے اثرات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پابندیاں بدستور برقرار

کچھ اقدامات میں نرمی کے باوجود شام پر یورپی اور امریکی پابندیاں اب بھی متعدد شعبوں اور شخصیات پر برقرار ہیں، خاص طور پر ان افراد اور اداروں پر جو مبینہ خلاف ورزیوں، جنگی جرائم اور سابق حکومت کی مالی معاونت سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔

یورپی یونین مسلسل یہ مؤقف اپنائے ہوئے ہے کہ وسیع پیمانے پر پابندیوں کے خاتمے کا انحصار سیاسی پیش رفت، انسانی حقوق کے احترام اور ملک میں پائیدار استحکام کے حصول سے مشروط ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق برسلز کا حالیہ فیصلہ بیک وقت سیاسی اور اقتصادی پہلو رکھتا ہے، جس کا مقصد شامی سرکاری اداروں کے ساتھ محدود رابطوں کے دروازے کھولنا ہے، جبکہ جنگ کے دوران مبینہ خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد پر دباؤ بھی برقرار رکھا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size