ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان اسماعیل بقائی کون ہیں؟
2024 سے ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمانی کر رہے، 2015 کے ایٹمی معاہدے کے چیف مذاکرات کار کے مشیر رہ چکے
واشنگٹن اور تہران کے درمیان نظریات کو قریب لانے کے لیے پاکستانی کوششیں جاری ہیں۔ اسی دوران ’’ العربیہ ‘‘ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کو ایرانی مذاکراتی ٹیم کا ترجمان مقرر کر دیا گیا ہے۔
اسماعیل بقائی کون ہیں؟
ایرانی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے "شہید بہشتی" یونیورسٹی سے بین الاقوامی قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے ایرانی وزارت خارجہ سے وابستہ سکول آف انٹرنیشنل ریلیشنز سے ڈپلومیسی اور بین الاقوامی تنظیموں میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔ وہ تہران یونیورسٹی سے پبلک انٹرنیشنل لا میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کے امیدوار بھی ہیں۔
پیشہ ورانہ سفر
انہوں نے 2001 میں ایرانی وزارت خارجہ میں اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز انٹرنیشنل لیگل افیئرز کی جنرل ڈائریکٹوریٹ میں ایک قانونی اہلکار کے طور پر کیا۔ پھر انہوں نے 2006 سے 2010 کے درمیانی عرصے میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے مستقل مشن میں قانونی مشیر اور ماہر کے طور پر کام کیا۔ انہوں نے 2006 سے 2010 کے دوران نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چھٹی کمیٹی (قانونی کمیٹی) میں ایران کے نمائندے کے طور پر بھی خدمات انجام دے رکھی ہیں۔
اسی طرح اسماعیل بقائی نے 2010 سے 2015 کے دوران ایرانی وزارت خارجہ میں معاہدات اور بین الاقوامی قانون کے شعبے کے سربراہ کا عہدہ سنبھالے رکھا۔ 2015 میں وہ مشترکہ جامع منصوبہ بندی (JCPOA)، جسے ایرانی جوہری معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے، میں ایران کے چیف مذاکرات کار کے سینئر مشیر رہے۔ یہ 2015 میں ایران اور ون پلس فائیو ملکوں کے گروپ کے درمیان دستخط شدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے۔
انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے لیے ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ 2022 سے 2024 کے درمیان اسماعیل بقائی نے ایرانی وزیر خارجہ کے فرسٹ اسسٹنٹ کا عہدہ سنبھالا۔ وہ 2024 سے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔