واشنگٹن اور تہران کے درمیان حل سفارتی ہونا چاہیے: رافیل گروسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاملے کے بحران کا حل سفارتی ہونا چاہیے۔ انھوں نے اس بات کی نشان دہی کی کہ دونوں فریقوں کے درمیان جاری مذاکرات ایک معاہدے تک پہنچنے کے قریب ہیں، اگرچہ کچھ بنیادی تفصیلات پر بحث جاری ہے۔

گروسی نے آج جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایجنسی فی الحال واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت میں براہ راست شریک نہیں ہے، لیکن وہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق ایرانی جوہری فائل پر ممکنہ معاہدے کے قریب تر ہو چکے ہیں۔

گروسی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں وہ اپنی جوہری سرگرمیوں سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو مطلع کرے۔

انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایرانی جوہری پروگرام کی نگرانی اور اس کے بین الاقوامی وعدوں کی تصدیق میں ایجنسی کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

افزودہ یورینیم

اس کے علاوہ اے آئی ای اے کے سربراہ نے وضاحت کی کہ معاہدے تک پہنچنے کے بعد بہترین آپشن یہ ہے کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے چھٹکارا حاصل کیا جائے یا اس کی افزودگی کی سطح کو کم کیا جائے۔ انھوں نے یہ اشارہ دیا کہ اسے ایران سے باہر منتقل کرنے میں بڑی عملی مشکلات درپیش ہیں۔

گروسی نے مزید کہا کہ ایجنسی کا خیال ہے کہ افزودہ یورینیم کے معاملے کو سنبھالنا دونوں فریقوں کے درمیان کسی بھی حتمی معاہدے میں اہم ترین مسائل میں سے ایک ہو گا، کیونکہ یہ اعتماد پیدا کرنے اور ایرانی جوہری پروگرام کے پُر امن کردار کی ضمانت کے لیے اہم ہے۔

فوجی کارروائی

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے تصدیق کی کہ کوئی بھی فوجی کارروائی ایرانی جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے قابل نہیں ہو گی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار حل صرف سفارتی راستے اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

گروسی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب علاقائی کشیدگی میں اضافے کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مفاہمت کو بحال کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں۔

جوہری تنصیبات پر حملے

متعلقہ سیاق و سباق میں گروسی نے شہری جوہری تنصیبات پر حملوں سے لاحق بڑے خطرات کے بارے میں خبردار کیا۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ گذشتہ ماہ متحدہ عرب امارات میں براکہ جوہری پلانٹ پر ڈرون حملے نے جوہری سلامتی سے متعلق سنگین خدشات پیدا کر دیے تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 17 مئی کو ہونے والا حملہ پلانٹ کے اندرونی سکیورٹی دائرہ کار سے باہر ایک جنریٹر پر ہوا جس کے نتیجے میں عارضی طور پر ایک آپریٹنگ یونٹ کو بیک اپ پاور سسٹمز پر انحصار کرنا پڑا۔

گروسی نے یہ بھی اشارہ کیا کہ حملے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان یا تابکاری کا اخراج نہیں ہوا، لیکن اس نے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے جڑے خطرات کی شدت کو ظاہر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی فعال جوہری ری ایکٹر پر براہ راست ضرب بڑے پیمانے پر تابکاری کے اخراج کا باعث بن سکتی ہے جس کا اثر سیکڑوں کلومیٹر تک پھیل سکتا ہے۔ انھوں نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جوہری سلامتی کے قواعد کا احترام کریں اور حساس شہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنائیں۔

اٹامک ایجنسی نے جمعرات کو ایک خفیہ رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ ایران میں جوہری مواد کی تصدیق کے لیے تنصیبات کا دورہ نہ کر سکنا "جوہری پھیلاؤ کے خدشات" کو بڑھاتا ہے۔ فرانس پریس کے مطابق انھوں نے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ "تعمیری انداز" میں تعاون کرے۔

اس نے یہ بھی وضاحت کی کہ وہ جون 2025 میں اسرائیل کی طرف سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد سے ان مقامات کا دورہ کرنے سے قاصر ہے، جس میں امریکہ نے تین مرکزی جوہری مقامات پر حملے کرکے حصہ لیا تھا۔ واشنگٹن اور عبرانی ریاست کی جانب سے 28 فروری سے تہران کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں بھی ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

یاد رہے کہ اس رپورٹ پر اگلے ہفتے ویانا میں قائم ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے دوران بحث کی جائے گی۔ واضح رہے کہ 2025 کی جنگ سے قبل ایجنسی کے اندازوں سے ظاہر ہوا تھا کہ ایران کے پاس 60 فی صد تک اعلیٰ افزودہ یورینیم کے تقریباً 440 کلوگرام موجود ہیں، جو جوہری بم بنانے کے لیے ضروری 90 فی صد کی سطح کے قریب ہے۔

اس نے نشان دہی کی کہ افزودگی کی موجودہ سطح 2015 کے معاہدے کی مقرر کردہ 3.67 فی صد کی حد سے کہیں زیادہ ہے، جو 2018 میں امریکہ کی یک طرفہ دستبرداری کے بعد سے ختم ہو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں