اسرائیل نے پیر کی صبح ایران کے مغربی اور وسطی علاقوں میں فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے۔ یہ کارروائی ایران کی جانب سے اسرائیلی اہداف پر متعدد میزائل داغے جانے کے چند گھنٹوں بعد کی گئی، جو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر اسرائیلی حملے کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق پیر کی صبح تہران سمیت کئی ایرانی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ اس نے ایران میں ''فوجی اہداف'' کو نشانہ بنایا ہے۔
سرکاری ٹی وی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر بتایا کہ تہران، تبریز اور اصفہان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اس وقت نئی سطح پر پہنچ گئی ،جب اتوار کو اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر حملہ کیا۔
اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کی جانب میزائل فائر کرنے کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ اگر لبنان پر حملے جاری رہے تو ایران کا ردعمل ''زیادہ وسیع اور زیادہ تکلیف دہ'' ہوگا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے، جبکہ اسرائیلی فوج نے متعدد میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس دوران ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔
دوسری جانب ایران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی آپریشن معطل کر دیا گیا۔
خبر رساں ایجنسی ''مہر ''کے مطابق ایران نے 8 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد پہلی بار اسرائیل پر براہِ راست میزائل حملہ کیا ہے۔
ادھر اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر ایرانی میزائل حملے کے جواب میں فوری کارروائی مؤخر کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے درخواست کی کہ وہ ایرانی میزائل حملے کا فوری جواب نہ دیں اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو مزید چند دن جاری رہنے دیں۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار اور گفتگو سے باخبر اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ فریقین ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لہٰذا مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے مزید چند دن کا وقت دیا جائے اور کوئی ایسی کارروائی نہ کی جائے جو اس عمل کو متاثر کرے۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے ٹرمپ کو اپنا مؤقف بدلنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور اس درخواست پر بعض تحفظات کا اظہار بھی کیا، تاہم آخرکار انہوں نے کسی حد تک صدر کی درخواست ماننے پر آمادگی ظاہر کر دی۔