ایران نے پیر کے روز مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کی ذمہ داری امریکا پر عائد کر دی، جبکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان اتوار کی شب سے حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔ 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد یہ دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست فوجی جھڑپ ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ کوئی بھی اس بات پر یقین نہیں کرتا کہ اسرائیلی حکومت امریکا کے ساتھ پیشگی رابطے اور تعاون کے بغیر ایسی کارروائی کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں اسرائیل کے اقدامات کو امریکی پالیسیوں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری حملوں کے تبادلے کے اثرات امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات پر بھی پڑ سکتے ہیں، جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا:یہ فطری بات ہے کہ ایران پر مسلط کی گئی اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے جاری سفارتی عمل متاثر ہوگا۔
تاہم بقائی نے واضح کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ پاکستانی ثالث کے ذریعے پیغامات اور رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ان کا کہنا تھا:سفارتی مشاورت ہر قسم کے حالات میں فطری طور پر جاری رہتی ہے۔