مشرق وسطیٰ

ہم چند دنوں کی لڑائی کی دہلیز پر کھڑے ہیں: اسرائیلی عہدے دار

اسرائیلی عہدے دار نے تصدیق کی ہے کہ ایران پر حملہ امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد کیا گیا اور فوج نے تمام محاذوں پر کارروائی کے لیے تیاری کا اعلان کر دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک اسرائیلی عہدے دار نے پیر کے روز بتایا کہ ایران پر حملہ امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد کیا گیا۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا ہے کہ اب ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ لڑائی کے چند دن آنے ہی والے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے پیر کو تصدیق کی کہ اس نے مغربی اور وسطی ایران میں فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ کارروائی ایران کی جانب سے 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد پہلی بار اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد کی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے تمام محاذوں پر مکمل تیاری کا اعلان کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر حزب اللہ نے حملہ کیا تو بیروت میں اس کے کمانڈ سینٹرز اور انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اسرائیلی اخبار 'معاریف' کے مطابق اسرائیل نے ان ایرانی نظاموں کو نشانہ بنایا ہے جو امریکی اور اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے لیے خطرہ تھے۔ اخبار کے مطابق اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ ایران جلد ہی اس حملے کا جواب دے گا۔

واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر نے واضح کیا کہ نشانہ بننے والے مقامات ایران کے میزائل لانچنگ سائٹس تھے اور ان کا توانائی کے شعبے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسری طرف تل ابیب میں امریکی سفیر نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کو تباہ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔

امریکی ویب سائٹaxios کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات کر کے انھیں مزید جوابی کارروائی سے روکنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، تاہم انہوں نے فوکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایرانی حملے مذاکرات میں مدد گار ثابت نہیں ہوں گے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ میزائل حملہ بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ تنظیم کے گڑھ پر اسرائیلی بم باری کا جواب ہے۔

پیر کی صبح تہران، تبریز اور اصفہان میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک "انتباہ" قرار دیا اور کہا کہ اگر جارحیت جاری رہی تو رد عمل وسیع ہوگا اور خطے میں امریکی و اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے کہا کہ حکومت سے گرین سگنل ملتے ہی فوج بھرپور جواب دے گی۔ دریں اثنا ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ بہت قریب ہے اور اس پر اسی ہفتے دستخط ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی جب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہوا تھا اور 2 مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے جوابی کارروائی کے بعد لبنان کا محاذ بھی گرم ہو گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں