نیتن یاہو دوبارہ انتخابات میں حصہ لیں گے: ٹرمپ کے شبہات کے بعد پارٹی کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بینجمن نیتن یاہو اس سال دوبارہ انتخاب لڑیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد ان کی پارٹی نے بدھ کو اعلان کیا۔ ٹرمپ نے کہا تھا، مجھے یقین نہیں ہے کہ آیا اسرائیلی وزیرِ اعظم دوبارہ انتخابات میں کھڑے ہوں گے۔

ایک مختصر بیان میں نیتن یاہو کی لیکود پارٹی نے اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ خدا نے چاہا تو جیتیں گے۔ انتخابات کا ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں ہوا لیکن اکتوبر تک ان کا ہونا ضروری ہے۔

قبل ازیں اے بی سی نیوز کے واشنگٹن کے لیے اعلیٰ نامہ نگار جوناتھن کارل نے ایکس پر ٹرمپ کے حوالے سے پوسٹ کی جس میں صحافی نےکہا تھا، "ان کا ایک شاندار کیریئر تھا۔ میں نہیں جانتا کہ وہ اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں؟"

سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد سے یہ اولین اسرائیلی انتخابات ہوں گے۔

نیتن یاہو اسرائیلی تاریخ کے سب سے زیادہ دائیں بازو کے اتحاد کی سربراہی میں دسمبر 2022 میں اقتدار میں واپس آئے جس کے بعد انہیں ایک ہنگامہ خیز مدت اور غزہ، لبنان اور ایران میں جنگوں سے پہلے وسیع پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا۔

جائزوں سے بارہا اشارہ ملتا ہے کہ ان کا اتحاد اگلے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ یروشلم میں قائم اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے تھنک ٹینک کے نو جون کو شائع کردہ ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ 61 فیصد اسرائیلی عوام کا خیال ہے کہ انہیں انتخاب نہیں لڑنا چاہیے۔

تاہم جائزے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا ممکنہ اتحاد پارلیمانی اکثریت سے محروم ہو جائے گا جب تک کہ وہ عرب جماعتوں سے اتحاد نہ کرے جبکہ اسے بعض اپوزیشن رہنماؤں نے مسترد کر دیا ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو میں بدستور قریبی تعلقات ہیں حالانکہ اس میں بعض اوقات کشیدگی دیکھی گئی ہے بشمول حالیہ ہفتوں میں جب ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ واشنگٹن کے تہران سے امن معاہدے پر مذاکرات کے دوران اسرائیل لبنان میں فوجی کارروائی روک دے۔

گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایک سخت فون کال کے دوران نیتن یاہو کو "پاگل" کہنے کا اعتراف کیا حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ان کے تعلقات خوشگوار ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کے صدر سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو بدعنوانی کے ان الزامات پر معاف کر دیں جن کی نیتن یاہو تردید کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں