یہودی آباد کاروں کے خلاف 6 مختلف ملکوں کے اقدامات ، اسرائیل کی مذمت
اسرائیلی وزارت خارجہ نے 6 یورپی ملکوں کی سخت مذمت کی ہے جنہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں اور ان کے اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ اسرائیل نے یورپی ملکوں کے ان اقدامات کو توہین آمیز قرار دیا۔
یہودی آباد کار ایک طویل عرصے سے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد واقعات کی شہرت رکھتے ہیں جن کے خلاف اب یورپی ممالک نے بھی اقدامات شروع کیے ہیں۔ تاہم اسرائیلی وزارت خارجہ نے منگل کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم یورپی ملکوں کے ان توہین آمیز اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں جو یہودی آبادکاروں کے اداروں اور اسرائیلی وزیر کے خلاف سامنے آئے ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اورن مارمور سٹین نے جاری کردہ بیان میں کہا ان مغربی ممالک کے اقدامات کی اصل یہ ہے کہ وہ یہودیوں کے اپنے زمین پر دوبارہ سے آباد ہونے کے حق پر اپنی سیاست مسلط کر رہے ہیں اور انہوں نے ان اقدمات کو تشدد کے خلاف لبادہ دے دیا ہے۔
برطانیہ نے منگل کے روز یہودی آبادکاروں اور اداروں کے حوالے سے پابندیوں کے پیکج کا اعلان کیا ہے جو تشدد میں ملوث یہودی آبادکاروں کی مالی مدد کرتے ہیں۔
مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کے تشدد کا نوٹس لینے والے ملکوں میں برطانیہ کے ساتھ کینیڈا، فرانس اور ناروے بھی شامل ہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پرتشدد یہودی آبادکاروں کو جانے والی رقوم کو روکیں گے۔
برطانوی حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا یہودی بستیوں کی توسیع اور تشدد غیر قانونی ہے اور یہ دو ریاستی حل کے لیے ایک خطرہ ہے۔ ان بستیوں اور یہودی آبادکاروں کے تشدد کی وجہ سے خطے میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی سلامتی اور امن کے لیے بھی خطرات ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ امکانی طور پر پارلیمان سے بھی اس سلسلے میں بات کریں گی۔
برطانیہ نے اسرائیلی حکومت سے اپنے اس مطالبے کو بھی دہرایا ہے کہ وہ یہودی بستیوں کی توسیع روکے، آبادکاروں کے تشدد پر قابو پائے اور جو بھی تشدد میں ملوث ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ نیز فلسطینیوں کی معیشت کے خلاف کیے گے اسرائیلی اقدامات واپس لیے جائیں۔ اگر صورتحال بہتر کرنے کے لیے اسرائیل نے اقدامات نہ کیے تو برطانیہ مزید اقدامات کرے گا۔
اسرائیل نے اس بات کا انکار کیا ہے کہ یہودی آبادکاروں کے حملوں کے دوران اسرائیلی فوج ان کے لیے ڈھال بن جاتی ہے۔ اسرائیل کے مطابق ایسے واقعات مقامی سطح پر بدمعاشی کی وجہ سے ہوتے ہیں جو کہ خود فوجی پروٹوکول کی بھی خلاف ورزی ہے، اس لیے ان کی تحقیقات کی جاتی ہیں۔
برطانیہ کی طرف سے یہ پابدنیاں اس وقت لگائی گئی ہیں جب اقوام متحدہ کی ایک انکوائری میں یہ حقائق سامنے آئے کہ اسرائیلی حکام فلسطینیوں پر یہودی آبادکاروں کے حملوں میں خود ملوث ہیں اور اسرائیلی حکام یہودی آبادکاروں کی سرپرستی کرتے ہیں۔
وزیر اعظم کیر سٹارمر کے زیر قیادت برطانیہ نے اسی پس منظر میں اسرائیل کے ساتھ 'فری ٹریڈ' کے سلسلے میں مذاکرات بھی روک رکھے ہیں اور بعض ہتھاروں کی اسرائیل کو ترسیل بھی معطل کر دی ہے۔