اسرائیلی افواج نے ویٹیکن کا امدادی قافلہ جنوبی لبنان جانے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان کے لیے ویٹیکن کے ایلچی کے زیرِ اہتمام ایک امدادی قافلہ جو ملک کے جنوب میں عیسائی دیہات کی طرف جا رہا تھا، اسرائیلی فوج نے روک لیا اور اسے راستہ بدلنے پر مجبور کر دیا، قافلے کے ایک رکن نے جمعہ کو اے ایف پی کو بتایا۔

سرحد کے قریب کئی عیسائی اکثریتی دیہات اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی میں پھنس چکے ہیں لیکن کئی باشندوں نے وہاں سے جانے سے انکار کر دیا ہے۔

قافلے کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، "جمعرات کو دیبل گاؤں کے قریب پہنچتے ہوئے کئی اسرائیلی ٹینکوں سے ہمارا آمنا سامنا ہوا" جنہوں نے قافلے کو روک لیا۔

اس شخص نے کہا، یہ واضح نہیں تھا کہ "وہ ہمیں ڈرانا چاہتے تھے یا حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔"

اے ایف پی کے رابطہ کرنے پر اسرائیلی فوج اور ویٹیکن نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

قافلے میں 25 ٹرک اور متعدد گاڑیاں شامل تھیں جن میں اپنے گھروں کو لوٹنے کے خواہشمند باشندے جا رہے تھے۔

جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بنائی گئی ایک بین الاقوامی کمیٹی کے ذریعے اس راستے کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کو بتایا گیا تھا۔

رکن نے بتایا کہ ایک گھنٹے سے زیادہ رکنے کے بعد قافلے نےاپنی منزل تک پہنچنے کے لیے ایک اور طویل راستہ اختیار کیا۔

امدادی قافلوں میں باقاعدگی سے حصہ لینے والی کیتھولک تنظیم Oeuvre d'Orient کے سربراہ ونسنٹ گیلوٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ جن لوگوں نے اپنے دیہات میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ "ملک کے باقی حصوں سے مکمل طور پر منقطع ہیں۔"

نیز کہا، "وہ وسائل سے محروم ہیں کیونکہ ان میں سے زیادہ تر کسان ہیں۔ انہیں اپنے کھیتوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔"

دیہات ان علاقوں اور مقامات سے گھرے ہوئے ہیں جہاں اسرائیل نے انخلا کا انتباہ دیا ہے اور گیلوٹ نے کہا کہ انہیں "خطرہ لاحق تھا۔"

دو جون کو اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک طالبہ اپنے والد اور بھائی کے ساتھ اس وقت ہلاک ہو گئی جب وہ بیروت میں یونیورسٹی کا امتحان دینے کے بعد اپنے سرحدی گاؤں واپس جا رہی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں