واشنگٹن یورپ میں نیٹو آپریشنز کے لیے دستیاب جنگی طیاروں اور جہازوں کی تعداد میں کمی کرے گا

یہ فیصلہ نیٹو کی طویل فاصلے تک حملے کرنے اور نگرانی کے آپریشنز انجام دینے کی صلاحیت کو محدود کر دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نیویارک ٹائمز نے دو اعلیٰ یورپی عہدے داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ یورپ میں نیٹو(NATO) آپریشنز کے لیے دستیاب جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کی تعداد میں بڑی کمی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

آج جمعے کے روز جاری اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے سے نیٹو کی طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملے کرنے اور نگرانی کے آپریشنز انجام دینے کی صلاحیت محدود ہو جائے گی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی منصوبے میں (ایف-16) اور (ایف-15 ای) لڑاکا طیاروں کی تعداد کو تقریباً 150 سے کم کر کے 100 کرنا، بحری نگرانی کے طیاروں کی تعداد کو 26 سے کم کر کے 15 کرنا اور آٹھ ہوائی جہازوں کو واپس بلانا شامل ہے جو پہلے یورپ کو فضا میں ایندھن بھرنے کی سہولت فراہم کرتے تھے۔

اخبار نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد میزائل لانچ کرنے والی ایک آبدوز اور ایک طیارہ بردار بحری جہاز کو دوبارہ کہیں اور تعینات کرنا بھی ہے، ساتھ ہی ان کئی جنگی جہازوں اور درجنوں طیاروں کو بھی ہٹانا ہے جو اس بحری جہاز کے مشن کا حصہ ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ بم بار طیاروں کے دو گروپوں میں سے ایک، جو پہلے یورپ کے دفاع کے لیے مختص تھا، کو دیگر مقامات پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔

روئٹرز نے مئی کے مہینے میں ذکر کیا تھا کہ امریکہ کسی بڑے بحران کے دوران اپنے اتحادیوں کے لیے دستیاب فوجی صلاحیتوں میں کمی لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size