عالمی سیاحت کے فروغ کے لیے سعودی عرب کا عزم
سعودی وزیرِ سیاحت نے کہا ہے کہ عالمی چیلنجز کے باوجود یہ شعبہ اپنی لچک کی بدولت تیزی سے حالات کے مطابق ڈھلنے اور بحالی کی صلاحیت کا مسلسل ثبوت دے رہا ہے
سعودی عرب نے اقوامِ متحدہ کی سیاحت کی تنظیم اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ اپنی مضبوط شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور عالمی سیاحتی شعبے کی ترقی، بین الاقوامی تعاون کے فروغ اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے حمایت جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
یہ بات اس وقت سامنے آئی جب سعودی عرب نے اقوامِ متحدہ کی سیاحت کی تنظیم کے ایگزیکٹو کونسل کے 126ویں اجلاس میں شرکت کی، جو سپین کے شہر طلیطہ میں 10 سے 11 جون 2026 کو منعقد ہوا۔
اپنے خطاب میں سعودی وزیرِ سیاحت احمد الخطیب نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے چیلنجز کے مقابلے کے لیے شعبے کی مضبوطی یقینی بنانے کے لیے مشترکہ عملی اقدامات کا آغاز ضروری ہے۔
انہوں نے اس حوالے سے گزشتہ سال ریاض میں منعقد ہونے والی تنظیم کی جنرل اسمبلی کے نتائج کا حوالہ دیا، خصوصاً سیاحت کے مستقبل سے متعلق ریاض اعلامیہ، جس نے عالمی سیاحتی شعبے کی ترقی کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کیا اور اس کی مسلسل ترقی اور خوشحالی کے لیے بنیاد رکھی۔
سعودی عرب کی ایگزیکٹو کونسل میں شرکت اقوامِ متحدہ کی تنظیم کے تحت بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے اس کے عزم کا حصہ ہے، جس کا مقصد شعبے کی لچک کو بڑھانا اور بین الاقوامی اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی حالات کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے، جو سفر اور سیاحت کی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اسی تناظر میں احمد الخطیب نے کہا:عالمی چیلنجز کے باوجود جو سیاحت کے شعبے کو متاثر کر رہے ہیں، یہ شعبہ اپنی لچک کی بدولت تیزی سے خود کو ڈھالنے اور بحال کرنے کی صلاحیت کا مسلسل مظاہرہ کر رہا ہے، جس نے اسے قومی معیشتوں کا ایک بنیادی ستون اور ترقی کا اہم محرک بنا دیا ہے۔
اجلاس کے موقع پر سعودی وزیرِ سیاحت نے یونان کی وزیرِ سیاحت اولگا کیفالو یانی کے ساتھ مل کر سعودی،یونانی اسٹریٹجک شراکت داری کونسل کی سیاحتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ ان میں انسانی وسائل کی ترقی، سیاحتی تجربات کے تبادلے اور سیاحتی مقامات کی تشہیر شامل تھے۔
اسی دوران سعودی وفد نے فرانسیسی وفد کے ساتھ ملاقات کی اور سعودی وزارتِ سیاحت اور فرانس کی متعلقہ وزارت کے درمیان ایک مشترکہ ورک پروگرام پر دستخط کیے۔
اس پروگرام میں سیاحتی افرادی قوت کی تربیت، سیاحتی سرمایہ کاری، پائیدار سیاحت، جدت اور جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور شماریات، تقریبات اور سیاحتی مقامات کی مارکیٹنگ و تشہیر جیسے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی۔
سعودی عرب کی اس اجلاس میں شرکت اقوامِ متحدہ کی سیاحت کی تنظیم کے ساتھ اس کے مسلسل تعاون کے تسلسل کو ظاہر کرتی ہے، جس کے اہم سنگ میلوں میں ریاض کو تنظیم کے مشرقِ وسطیٰ کے علاقائی دفتر کا صدر مقام منتخب کیا جانا اور گزشتہ سال ریاض میں جنرل اسمبلی کے 26ویں اجلاس کی میزبانی شامل ہے۔
اسی اجلاس میں ''سیاحت کے مستقبل سے متعلق ریاض اعلامیہ'' کو رکن ممالک کی متفقہ منظوری حاصل ہوئی، جو عالمی سیاحتی شعبے کو زیادہ پائیدار اور مضبوط بنانے میں سعودی عرب کے مرکزی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔