سعودی عرب کے ماہر موسمیات ڈاکٹر عبداللہ المسند نے ان سائنسی وجوہات کی وضاحت کی ہے جن کی بنا پر الاحساء موسم گرما کے دوران سعودی عرب کے سب سے زیادہ گرم ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جغرافیائی، زمینی اور موسمی عوامل کا ایک مجموعہ دنیا کے اس سب سے بڑے نخلستان کو سعودیہ کا گرم ترین مقام بناتا ہے۔
ڈاکٹر المسند نے اپنے آفیشل پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے اکاؤنٹ پر وضاحت کی کہ الاحساء میں بڑھتے درجہ حرارت کی وجہ کوئی ایک نہیں بلکہ قدرتی اثرات کا ایک مربوط نظام ہے جس میں جغرافیائی محل وقوع، زمین کی نوعیت، ہوائیں اور موسم گرما میں علاقے پر قابض موسمی نظام شامل ہیں۔
سمندری اثرات سے دور اندرونی مقام
ڈاکٹر المسند نے نشاندہی کی کہ الاحساء خلیج عرب کے ساحل سے تقریباً 60 کلومیٹر دور واقع ہے، جس کی وجہ سے یہ دن کے اوقات میں آبی ذخائر کے براہ راست ٹھنڈک پہنچانے والے اثر سے محروم رہتا ہے اور اسے خشک براعظمی آب و ہوا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اندرونی مقام ریتلی زمین کو تیزی سے گرم کرنے اور ساحلی علاقوں کے مقابلے میں درجہ حرارت کو تیزی سے بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔
البوارح ہوائیں گرمی میں اضافے کاموجب
ڈاکٹر المسند نے بتایا کہ الاحساء موسم گرما میں خشک اور گرم شمال اور شمال مغربی ہواؤں سے متاثر ہوتا ہے جنہیں البوارح کہا جاتا ہے۔ یہ ہوائیں خلیج عرب کی ٹھنڈی اور مرطوب ہواؤں کو اندرونی علاقوں تک پہنچنے سے روکتی ہیں، جس سے شدید گرمی برقرار رہتی ہے اور درجہ حرارت میں کمی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
🔴س: لماذا تُعد محافظة #الأحساء من أشد مواضع المملكة حرارة في فصل #الصيف؟
— أ.د. عبدالله المسند (@ALMISNID) June 14, 2026
1. تقع الأحساء في عمق داخلي نسبي (نحو 60 كم عن ساحل #الخليج_العربي)، مما يحرمها من التأثير التبريدي المباشر للمسطحات المائية نهاراً، ويكسبها مناخاً قارياً جافاً تتسارع فيه معدلات تسخين سطح الأرض الرملية… pic.twitter.com/dQpGKLOvZM
انہوں نے بتایا کہ الاحساء ایک نشیبی میدانی طاس میں واقع ہے جس کی سطح سمندر سے بلندی 130 سے 140 میٹر کے درمیان ہے اور یہ وسیع ریتلی جگہوں، جن میں سب سے نمایاں الجافورہ ریت ہے، سے گھرا ہوا ہے۔ زمین کی سطح نیچی ہونے کی وجہ سے سطح زمین کے قریب ہوا کا دباؤ بڑھ جاتا ہے، جو شمسی تابکاری کو جذب کرنے اور گرمی کو قید کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔
ہیٹ ڈوم اور بالائی فضائی دباؤ
ڈاکٹر المسند نے وضاحت کی کہ موسم گرما میں بعض اوقات خلیج عرب اور جزیرہ نما عرب کے شمال مشرق کے اوپر ایک بالائی فضائی دباؤ (مرتفع جوی) قائم ہو جاتا ہے، جو نیچے کی طرف ہوا کے بہاؤ کا باعث بنتا ہے جس سے ہوا دباؤ میں آ کر گرم ہو جاتی ہے۔ اس مظہر کو ہیٹ ڈوم (گرمی کا گنبد) کہا جاتا ہے، جو سطح زمین کے قریب گرمی کو روکنے اور قدرتی ٹھنڈک کے مواقع کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ربع الخالی کا لو پریشر گرمی کی لہروں کی تقویت کا باعث
انہوں نے مزید کہا کہ شدید گرمی کے نتیجے میں موسم گرما کے دوران ربع الخالی اور جنوب مشرقی جزیرہ نما عرب کے اوپر ایک گہرا سطحی حرارتی لو پریشر بنتا ہے، جو ارد گرد کے صحرائی علاقوں سے آنے والی گرم ہواؤں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
ڈاکٹر المسند نے اس بات پر زور دیا کہ الاحساء کے اوپر ان ہوائی ماسوں کا جم جانا گرمی کی لہروں کو تقویت دیتا ہے اور درجہ حرارت کو انتہائی بلند سطح پر لے جاتا ہے۔
ڈاکٹر المسند نے اپنی بات کا اختتام اس یقین دہانی پر کیا کہ ان تمام قدرتی اور موسمی عوامل کا ملاپ الاحساء کو مملکت کے ان علاقوں میں سے ایک بناتا ہے جو شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
-
سعودی عرب اور فرانس میں سیاحتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق
یہ تبادلۂ تجربات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سیاحتی ڈیٹا کے تبادلے کو آسان بناتا ہے ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب کا فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم
سعودی وزارتِ خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں ختم کرنے اور ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں حکومت کی جانب سے ستمبر تک دھوپ میں کام کرنے پر پابندی کا آغاز
سنہ 2025ء میں فیصلے پر عمل درآمد کی شرح 94 فیصد ریکارڈ
مشرق وسطی