سعودی وزارتِ خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں ختم کرنے اور آئندہ 60 روز کے دوران تفصیلی مذاکرات شروع کرنے کے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، جس کا مقصد ایک مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے۔
سعودی عرب نے پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی اہمیت کو اجاگر کیا اور امریکا و ایران کی جانب سے ان سفارتی مساعی کا مثبت جواب دینے پر بھی اطمینان کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں یہ معاہدہ ممکن ہوا۔
سعودی عرب نے آبنائے ہرمز میں امن و استحکام اور جہاز رانی کی آزادی کو 28 فروری سے پہلے کی صورتحال کے مطابق بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ساتھ ہی اس امید کا اظہار کیا کہ ایک مستقل معاہدے کے ذریعے خطے اور دنیا میں امن کو فروغ ملے گا، جو علاقائی ممالک کے سلامتی مفادات کا تحفظ