سعودی کابینہ کا امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے معاہدے کا خیرمقدم

دہشت گردی اور اس کی مالی معاونت کے انسداد کے نظام میں ترمیم کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس سے مستقل معاہدے تک پہنچنے کے لیے تفصیلی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ ساتھ ہی کابینہ نے اس سلسلے میں پاکستان اور قطر کی جانب سے کی گئی ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔

اسی تناظر میں کابینہ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو 28 فروری سے قبل کی حالت پر بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے خطے اور دنیا میں امن اور سلامتی کو فروغ ملے گا جس میں علاقائی ممالک کے سکیورٹی مفادات کا تحفظ اور ان کے داخلی معاملات کا احترام شامل ہے۔

اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مملکت سعودی عرب کو حرمین شریفین اور وہاں آنے والوں کی خدمت کا شرف بخشا۔ کابینہ نے سنہ 1447 ہجری کے حج سیزن کے کامیاب اور منظم انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا جس میں 17 لاکھ سے زائد عازمین نے آرام و سکون کے ساتھ اپنے مناسک ادا کیے۔ یہ کامیابی منصوبہ بندی، ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ایک مربوط ادارہ جاتی نظام کا نتیجہ ہے۔

کابینہ نے سپریم حج کمیٹی اور ضیوف الرحمٰن کی خدمت پر مامور تمام اداروں کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے اعلیٰ ترین سطح پر ہم آہنگی اور تیاری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیے۔

اس کے علاوہ ولی عہد کی سربراہی میں کابینہ کو گزشتہ دنوں سعودی عرب اور برادر و دوست ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت اور مشاورت سے آگاہ کیا گیا جس کا مقصد دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانا اور علاقائی و عالمی سطح پر امن و استحکام کی کوششوں کو سہارا دینا ہے۔

سائبر سکیورٹی میں سعودی ماڈل کی برتری

کابینہ نے ریاض کو اقوام متحدہ کے انسٹی ٹیوٹ فار ٹریننگ اینڈ ریسرچ کے سائبر سکیورٹی آفس کے پہلے ہیڈ کوارٹر کے طور پر منتخب کرنے کو سائبر سکیورٹی میں سعودی ماڈل کی برتری کا ثبوت قرار دیا اور اسے سائبر اسپیس کو محفوظ بنانے اور معاشروں و معیشتوں کی ترقی کے لیے مملکت کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا۔

سعودی معیشت کا استحکام

جدہ میں منعقدہ اجلاس میں کابینہ نے سنہ 2026ء کے لیے آئی ایم ایف کی آرٹیکل فور مشاورت کے اختتام پر جاری بیان کا خیرمقدم کیا۔ بیان میں سعودی معیشت کے مضبوط بنیادی ڈھانچے، وافر ذخائر اور ویژن 2030ء کے تحت جاری اصلاحات کی بدولت علاقائی تبدیلیوں کے سامنے ڈٹ جانے کی صلاحیت کی تصدیق کی گئی ہے۔

نیشنل ٹرانسفارمیشن اور انسانی صلاحیتوں کی ترقی

کابینہ نے نیشنل ٹرانسفارمیشن پروگرام کی کامیابیوں کو سراہا جس کے تحت 71 فیصد اہداف مکمل ہو چکے ہیں جن کا مقصد ماحولیات کا تحفظ، غذائی و آبی تحفظ کو یقینی بنانا اور نجی شعبے کی شرکت کو فروغ دینا ہے۔ اسی طرح انسانی صلاحیتوں کی ترقی کے پروگرام کے تحت تعلیم و تربیت کے نظام میں بہتری اور سعودی افرادی قوت کی مسابقت بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔

نظاموں اور معاہدوں کی منظوری

کابینہ نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے جرائم میں ضبط شدہ اثاثوں کے انتظام کے نظام کی منظوری دی، اس کے ساتھ ہی دہشت گردی اور اس کی مالی معاونت کے انسداد کے نظام اور اس کے ایگزیکٹو ضوابط میں ترمیم کی منظوری دی۔

کابینہ نے وزارت ثقافت اور بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظِ ورثہ (ALIPH) کے درمیان ریاض میں علاقائی دفتر قائم کرنے کے معاہدے اور ریاض معاہدہ برائے ڈیزائن قانون کی بھی توثیق کی۔

آخر میں کابینہ نے تفریحی سرگرمیوں کے نظام اور ریاض میں انشورنس کے تنازعات کے تصفیے کے لیے مزید دو ابتدائی کمیٹیوں کے قیام کی بھی منظوری دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں