بحری ٹریکرز نے جمعہ کو بتایا ہے کہ امریکہ-ایران معاہدے کے بعد سے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازرانی کی رفتار دو ماہ میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس ہفتے امن معاہدے کے تحت اہم تجارتی راستہ دوبارہ کھولنے پر اتفاق ہوا تھا۔
ٹریکنگ فرم اے ایکس ایس میرین کے اعداد و شمار کے مطابق کل 25 تجارتی جہازوں نے جمعرات کو دوبارہ کھلنے والی آبنائے عبور کی جو اپریل کے وسط کے بعد سے سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اے ایکس ایس میرین نے ایک نیوز ریلیز میں کہا، 18 جون کو "ہم نے آبنائے ہرمز کے ذریعے 25 تصدیق شدہ تجارتی جہازوں کی راہداری کا مشاہدہ کیا جو 18 اپریل کے بعد سے ایک دن کی سب سے زیادہ تعداد اور جون کے پہلے دس دنوں کے دوران ریکارڈ کی گئی اوسط یومیہ سطح سے پانچ گنا زیادہ ہے"۔
ایران نے 18 اپریل کو آبنائے کو مختصر طور پر دوبارہ کھول دیا تھا جس سے جہازرانی میں مختصر اضافہ ہوا۔
شپنگ جرنل لائیڈز لسٹ کے مطابق جنگ سے پہلے تقریباً 120 جہاز روزانہ آبنائے سے گذرتے تھے۔
اے ایکس ایس میرین نے کہا کہ مارچ کے آغاز سے جہازرانی اوسطاً 7.6 یومیہ تھی۔
جمعرات کو آمدورفت کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بعض بحری جہاز ٹریکنگ سے بچنے کے لیے آبنائے سے گذرتے وقت اپنے اے آئی ایس ٹرانسپونڈر سگنلز بند کر دیتے ہیں۔
جمعرات کو یہ "اضافہ اے آئی ایس سگنل میں سب سے بڑے خلل کے درمیان ہوا جو ہم نے خلیج فارس میں تنازعہ شروع ہونے کے بعد دیکھا ہے جس میں 200 سے زیادہ تجارتی جہاز جعل سازی یا اے آئی ایس کے غیر معمولی رویے سے بیک وقت متأثر ہوئے ہیں،" اے ایکس ایس میرین نے کہا۔
محفوظ جہاز رانی کے منصوبے
دریں اثناء جہازرانی گروپس نے اس ہفتے خبردار کیا تھا کہ آبنائے کے ذریعے ٹریفک دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے بدستور واضح نہیں تھے اور اس کے راستے خلیج سے اخراج شروع کرنا محفوظ نہیں سمجھا گیا۔
شپنگ لابی BIMCO کے چیف سکیورٹی آفیسر جیکب لارسن نے البتہ یہ "توقع ظاہر کی کہ راہداری کی سہولت کے لیے جلد ہی ایک بین الاقوامی رابطہ کاری ادارہ قائم کیا جائے گا۔"
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے سربراہ آرسینیو ڈومنگیوز نے اپریل میں کہا تھا کہ ادارہ خلیج سے باہر بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے منصوبے پر کام کر رہا تھا۔
آئی ایم او کے مطابق 500 سے زیادہ تجارتی جہاز اور تقریباً 11,000 سمندری جہاز ہنوز خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں اور خطے میں مجموعی طور پر سمندری عملے کے 20,000 افراد جنگ سے متأثر ہوئے ہیں۔
چودہ جون کو اعلان کردہ ایران-امریکہ معاہدے کے بعد "اس ہفتے ریلیف کی پہلی علامت تیزی سے گرتی قیمتوں کے ساتھ سامنے آئی،" بینکنگ گروپ Swissquote کے ایک سینئر تجزیہ کار Ipek Ozkardeskaya نے کہا۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "توانائی اور نقل و حمل کے شعبے سب سے پہلے اطمینان محسوس کریں گے جو بعد میں باقی ماندہ معیشت کی طرف منتقل ہو گا۔"
تاہم انہوں نے کہا، "لیکن اسرائیل کی اس میں شرکت کے لیے رضامندی کے بغیر جنگ ختم کرنے کے امریکی امکانات سے متعلق سوالات باقی ہیں۔"