امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کے روز لبنان کے صدر جوزف عون سے فون پر بات چیت کی ہے۔ فون پر خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور امریکہ کی جانب سے اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ لبنان اپنی سرزمین پر حکومتی رٹ کو مستحکم کرنے کے لیے جو کوششیں کر رہا ہے امریکہ اس کی حمایت کرتا ہے۔ یہ بات فون کال کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہی گئی ہے۔
صدر جوزف عون کے دفتر کی جانب سےجاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے مارکو روبیو نے لبنانی اداروں بشمول سلامتی سے متعلق فوجی اداروں کی بھی حمایت کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر لبنانی صدر نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا ایک جامع جنگ بندی ہی امریکہ کے زیر قیادت اسرائیلی و لبنانی مذاکرات کے لیے اہم ستون کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے میں متوقع ہے۔
واشنگٹن کی میزبانی میں یہ پانچواں مذاکراتی دور ہوگا۔ امریکی دفتر خارجہ کے مطابق یہ اب ہوگا۔ جبکہ پینٹاگون نے امکان ظاہر کیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان فوجی مذاکرات کا دوسرا دور ہوگا۔
امریکہ کے وزیر خارجہ نے کہا اسرائیل اور بیروت کے درمیان مذاکرات ہی واحد راستہ ہے کہ لبنان کی تعمیرنو، معاشی بحالی اور تشدد کا خاتمہ ہو سکے۔
امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا ہے کہ مارکو روبیو نے صدر جوزف عون کی حوصلہ مندی کی تعریف کی کہ وہ لبنان کی خود مختاری کی بحالی کے لیے ملنے والے اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے اس سلسلے میں لبنانی حکومت کی تمام تر کوششوں کی حمایت کی اور ان کوششوں کو بھی سراہا جو لبنان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے کر رہا ہے۔
انہوں نے فون کال کے دوران لبنانی ملیشیا کو غیر مسلح کرنے کے سلسلے میں بھی امریکی مؤقف کو دہرایا ۔ انہوں نے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ کو آرڈی نیشن کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ان مقاصد میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔