ریاض : ایک ہفتے کے دوران رہائشی و لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر 15288 افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی حکام نے صرف ایک ہفتے کے دوران 15288 ایسے افراد کو زیر حراست لیا ہے جو مملکت کے رہائشی قوانین ، لیبر قوانین یا پھر سرحدوں کی سلامتی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے تھے۔

حکام کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ان میں 7864 وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے صرف رہائشی قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزیاں کیں۔ ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود مملکت میں مقیم رہے اور اس دوران ان قوانین کو نظر انداز کیا جو ویزوں کی تجدید یا عدم تجدید سے متعلق تھے۔

دوسری بڑی تعداد میں گرفتاریاں ان افراد کی گئی ہیں جنہوں نے مملکت کے سرحدی سلامتی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی اور غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش کی یا داخل ہوئے۔ یہ تعداد 4576 بتائی گئی ہے۔

ایک تیسری تعداد ان افراد کی ہے جنہوں نے سعودی عرب میں کام کاج کے دوران ان قوانین کی پروا نہ کی جو لیبر سے متعلق ہیں۔ ان کارکن طبقے کے زیر حراست لیے گئے افراد کی تعداد 2848 ہے۔

حکام کی جانب سے ظاہر کیے گئے ڈیٹا کے مطابق جن افراد نے غیر قانونی طور پر سعودی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی ہے ان میں 53 فیصد کا تعلق ایتھوپیا سے ہے۔ 46 فیصد کا تعلق یمن سے ہے جبکہ دوسرے ممالک سے یہ تعداد صرف ایک فیصد ہے۔

علاوہ ازیں 54 وہ لوگ ہیں جنہوں نے پڑوسی ملکوں میں غیر قانونی بنیادوں پر داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں 24 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جو ان افراد کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنے میں ملوث تھے یا کسی اور طرح کی سہولت کاری کر رہے تھے۔

سعودی وزارت داخلہ نے کہا جو کوئی بھی مملکت میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کی مدد کرتے پایا گیا اسے 15 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ سہولت سرحد کے اندر غیر قانونی طور پر داخلے کی کوشش میں کوئی بھی آسانی پہنچانے، انہیں ٹرانسپورٹ مہیا کرنے یا ان کے لیے رہائش کے بندوبست میں تعاون کرنے سے متعلق بھی ہو سکتی ہے۔

سعودی وارت داخلہ کے مطابق ان سہولت کاروں کو 15 سال قید کے علاوہ دس لاکھ سعودی ریال تک کا جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ نیز ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور املاک بھی بحق سرکار ضبط کی جا سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں